.

ایران: عوامی احتجاج کا سلسلہ صدر روحانی کے دفتر تک پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کئی روز سے جاری عوامی احتجاج کا نیا سلسلہ تہران کے قلب میں صدر حسن روحانی کے دفتر کے سامنے تک پہنچ گیا۔

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنان کے گروپ کے زیر انتظام نیوز ایجنسی "ہرانا" کے مطابق ایران کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے پولٹری فارمز مالکان نے پیر کے روز صدر روحانی کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔

مظاہرین نے ارزاں نرخوں پر مرغیوں کی خرید سے متعلق حکومتی فیصلے کی منسوخی کا مطالبہ کیا کیوں کہ اس قیمت میں پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ پولٹری فارمز مالکان نے بحران کے حل کے لیے حکومتی سپورٹ کا بھی مطالبہ کیا۔

دارالحکومت تہران اور ایران کے دیگر شہروں میں گزشتہ چند روز کے دوران احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے۔ ان میں اہم ترین ٹرک ڈرائیوروں کی ہڑتال ہے جس کی وجہ سے ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

علاوہ ازیں اتوار کے روز اساتذہ کے ایک گروپ نے ایرانی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرے میں مطالبہ کیا کہ ان کی تاخیر کا شکار تنخواہوں کو فوری طور پر ادا کیا جائے۔

ادھر الاہواز شہر میں اسٹیل فیکٹری کے ریٹائرڈ ملازمین نے پینشن فنڈ کی عمارت کے سامنے جمع ہو کر اپنی پینشنوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کیا۔

ایران کے شمالی شہر جرجان میں آلو کے کاشت کاروں نے اپنی زرعی کاشت کی قیمتِ خرید میں شدید کمی کے سبب بھرپور احتجاج کیا۔

یزد شہر میں چھوٹی بسوں کے ڈرائیوروں نے ٹرک ڈرائیوروں کی ہڑتال کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنا کام روک دیا۔ ٹرک ڈرائیوروں نے عدلیہ کی جانب سے دھمکی کے باوجود پیر کے روز مسلسل ساتویں روز بھی ہڑتال کو جاری رکھا۔

سکیورٹی فورسز نے ٹرک ڈرائیوروں کو مالی جرمانے کی دھمکی دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا جائے تاہم دھمکیوں کے باوجود ہڑتال جاری ہے۔

سبزوار شہر میں داخلہ سکیورٹی فورسز کے کمانڈر نے دھمکی دی کہ ہڑتال جاری رکھنے کی صورت میں ٹرک ڈرائیوروں کو ملک کے تمام راستوں پر آمد ورفت سے محروم کر دیا جائے گا۔

ایران میں عدلیہ کے ترجمان نے اتوار کے روز کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز ان شورشوں کا پوری طاقت سے مقابلہ کریں گی جن سے امریکا اور دیگر دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔