.

معروف ایرانی اخبار کی خامنہ ای کے مشیر پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی کے قریب شمار کیے جانے والے روزنامے "جمہوری اسلامی" نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی کے جوہری معاہدے کے حوالے سے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ولایتی نے بدھ کے روز اپنے بیان میں جوہری مذاکرات کے حوالے سے سابقہ عہدے داروں کا موجودہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور ان کی ٹیم کے ساتھ موازنہ کیا۔ ولایتی کے مطابق سابقہ عہدے دار اپنے کام میں پیشہ ورانہ مہارت رکھتے تھے۔ اس کے جواب میں مذکورہ اخبار نے کہا ہے کہ "آپ تو وزیر خارجہ تھے لیکن آپ امور خارجہ میں پیشہ ورانہ مہارت نہیں رکھتے اس لیے کہ آپ بچوں کے ڈاکٹر ہیں"۔

ایرانی رہبر اعلی کے مشیر نے حالیہ بیان میں جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنی حمایت پر مبنی موقف کو تبدیل کر دیا۔ اس کے نتیجے میں حسن روحانی کی قریبی شخصیات اور ذرائع ابلاغ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

ولایتی نے جوہری معاہدے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا لوگوں کی معاشی زندگی کو معاہدے سے مربوط کر دیا گیا اور ملک کو مکمل طور پر مفلوج بنا دیا گیا۔ ولایتی نے جوہری معاہدے کی منظوری میں جلدی کرنے پر ایرانی پارلیمنٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "کیا یہ صحیح عمل ہے کہ پارلیمنٹ ایک انتہائی اہم معاملے (جوہری معاہدے) کو 20 منٹ میں منظور کر لے۔ اگر پارلیمانی کمیٹی اس معاملے کو اچھی طرح سے زیر بحث لے آتی تو آج ہمیں ان مشکلات کا سامنا نہ ہوتا"۔

ایرانی روزنامے "جمہوری اسلامی" نے علی اکبر ولایتی کے بیان کو "مغالطوں اور خطاؤں" سے بھرپور قرار دیا ہے۔ اخبار نے ساتھ ہی کئی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "ولایتی کا دعوی ہے کہ ان کے وزیر خارجہ ہونے کے وقت ٹیم میں پیشہ ورانہ ماہرین موجود تھے۔ تاہم اس حقیقت کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ وزیر خارجہ ولایتی جنہوں نے عراق کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کی قیادت کی تھی خود بچوں کے ایک ماہر ڈاکٹر تھے اور ان کے پاس خارجہ پالیسی کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اگر صدام حسین کویت پر حملے کی حماقت نہ کرتے اور امریکا عراق کے خلاف حملہ نہ کرتا تو شاید ہم ہم اپنے قیدیوں اور مقبوضہ اراضی کو واپس نہیں لے سکتے تھے"۔

اخبار نے 8 سالہ جنگ کے دوران عراق کے لیے روس کی سپورٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے تہران کے ماسکو کے ساتھ تعلقات پر بھی کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ اخبار کے مطابق "ماسکو نے عراق کو جوہری ہتھیار کے سوا تمام اسلحہ فراہم کیا تاہم یہ چیز ایران میں سامنے نہیں آئی کیوں کہ اس وقت ایرانی میڈیا بائیں بازو والوں کے ہاتھوں میں تھا جو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دشمنی میں مصروف تھا۔ وہ عراق کے لیے روس کی سپورٹ جیسی تلخ حقیقت کو پیش کرنے کے بجائے امریکا اور اسرائیل کی دشمنی کے غبارے میں ہوا بھرتے رہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارے عوام یہ سمجھ بیٹھے کہ امریکا صدام حسین کو ہتھیار دے رہا ہے"۔

اخبار نے باور کرایا کہ ایران پر تمام تر پابندیاں علی اکبر ولایتی کے وزارت خارجہ سنبھالنے کے بعد عائد ہوئیں۔ اخبار نے ولایتی پر روسی نواز ہونے کا الزام بھی لگایا اور دعوی کیا کہ روس ہی نے آذربائیجان کو ایران سے علاحدہ کیا۔ اخبار کے مطابق ولایتی نے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کو اعتماد کی نظر سے دیکھیں۔ اخبار نے ولایتی سے استفسارکیا کہ "کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم مغرب کے شر سے نجات کے لیے ترکمانستان، آرمینیا اور تاجکستان کی طرح روس کی چھتری کے نیچے آ جائیں ؟ یہ ایک خطرناک تجویز ہے"۔

اختتام پر اخبار نے مشرق (روس) اور مغرب (امریكا) کے ساتھ متوازن تعلقات کے قیام پر زور دیا۔ اخبار نے متوازن تعلقات کی مثال دیتے ہوئے امریکا اور چین کے تعلقات کو ایک بہترین نمونہ قرار دیا۔