.

بغاوت میں معاونت کےشبے میں 47 ترک فوجی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق فوج میں موجود باغی عناصر کی سرکوبی کی مہم کے تحت پولیس نے دو سال قبل بغاوت میں معاونت کے شبے میں کم سے کم 47 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ترکی سے نشریات پیش کرنے والے’ترک سی این این‘ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے تازہ کریک ڈاؤن گذشتہ منگل کو شروع کیا گیا جس میں اب تک 124 مشتبہ ’باغیوں‘ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ گرفتار کیے گئےافراد امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔

ترکی کی موجودہ حکومت اور حکمران جماعت ’آق‘ 15 جولائی 2016ء کو ملک میں انقلاب کی ناکام کوشش کرنے کا الزام فتح اللہ گولن پرعاید کرتی ہے تاہم گولن ان الزامات کو سختی سے رد کرتے آئے ہیں۔

’سی این این ترکی‘ کے مطابق گرفتار افراد فوج میں مبلغ کے عہدوں پر تعیبات رہےہیں۔ اس کے علاوہ بعض دیگر سینیر افسران شامل ہیں۔ زیادہ گرفتاریاں قونیہ شہر سے کی گئیں تاہم ملک کے31 دیگر صوبوں سے بھی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ترکی میں یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب آج ملک میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔