فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے والے دہشت گرد کی سزا میں تخیف
اسرائیل کی ایک مقامی عدالت نے سنہ 2015ء میں غرب اردن کے شہر نابلس میں دوما کے مقام پر ایک فلسطینی خاندان کو رات کی تاریکی میں گھر میں بند کرکے زندہ جلا کر شہید کرنے کے سنگین جرم میں ملوث ایک مجرم کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے اسے رہا کردیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نابلس کے دوابشہ خاندان کے ایک قاتل دہشت گرد عمیرام بن اولیل کو رہا کردیا گیا ہے۔ رہائی پانے والا دہشت گرد سعد ، اس کی اہلیہ اور ایک شیر خوار بیٹے کوگھر میں زندہ جلا کر شہید کرنے میں ملوث ہے۔ عدالت نے حکم دیاہے کہ قاتل کو رہائی کے بعد گھر میں رکھا جائے تاہم اسے ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔
ادھر مظلوم دوابشہ خاندان کی طرف سےمرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے قاتل کی رہائی پر گہرےدکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دوابشہ خاندان کاکہنا ہے کہ بے گناہ فلسطینی شہریوں زندہ جلانے میں ملوث عناصر کو رہا کرنا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کے مترادف ہے۔
دوابشہ خاندان نے بے گناہ شہریوں کو زندہ جلانے میں ملوث ایک قاتل کی رہائی کو صہیونی ریاست کے مجرموں اور قاتلوں کو تحفظ دینے اور جرائم کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
-
مشرقی القدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کریں گے: السیسی
قضیہ فلسطین کا دو ریاستی حل
مشرق وسطی -
’القدس کو فلسطین کا حصہ’ قرار دینےپراسرائیل شہزادہ ولیم پر سخت برہم
برطانوی شہزادہ ولیم کی جانب سے مشرقی بیت المقدس کو اراضی فلسطین کا حصہ قرار دیے ...
مشرق وسطی -
ریاستِ فلسطین کی تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار میں شمولیت
فلسطین نے کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والی عالمی ...
بين الاقوامى