.

فلسطینی اتھارٹی ’اونروا‘ کے لیے فنڈز کے حصول میں سرگرم

عالمی برادری فلسطینی پناہ گزینوں کو فوری امداد فراہم کرے: پی ایل او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] نے امریکا کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مالی امداد میں کمی کے فیصلے کے بعد اسے پورا کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔

’پی ایل او‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی عالمی برادری کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہم دنیا کو فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی’اونروا‘ کی امداد پر قائل کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی طرف سے ’اونروا‘ ایجنسی کے فنڈز میں کمی گئی ہے جس کے نتیجے میں اندرون فلسطین اور دوسرے ملکوں میں پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے پانچ ملین فلسطینیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ’اونروا‘ کو درپیش فنڈز کی کمی دور کی جائے اور ادارہ کم سے کم سطح پراپنی امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے۔

خیال رہے کہ ’اونروا‘ نے بدترین مالی بحران کے باعث اپنی بعض سرگرمیوں کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ اکتوبر سے اپنی بعض موبائل ڈسپنسریوں کو بند کر دے گا۔ اس کے علاوہ غرب اردن میں ایجنسی کےساتھ کام کرنے والے 154 فلسطینیوں کے کنٹریکٹ میں تجدید نہیں کی جائے گی۔ یہ اقدام امریکا کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی کی امداد میں 30 کروڑ ڈالر کی امداد میں کمی کے اعلان کا نیتجہ بتایا جا رہا ہے۔

ادھر ’اونروا‘ کے ترجمان سامی مشعشع نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ مارچ سے جون کے دوران ایجنسی کو 20 کروڑ 38 لاکھ ڈالر کے فنڈز ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 جون کو نیویارک میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس کے بعد اونروا کو درپیش فنڈز کی قلت 40 کروڑ 46 لاکھ سے کم ہو کر 20 کروڑ 17 لاکھ تک آگئی ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے عالمی برادری سے مزید مالی مدد کی ضرورت ہے۔