.

ایران کو لگام دینے کے لیے ٹرمپ عرب "نیٹو" کی تشکیل کے واسطے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذمے داران اور مشرق وسطی کی ایک عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے خطّے میں ایرانی توسیع پر روک لگانے کے مقصد سے خلیجی ممالک، مصر اور اردن کے ساتھ ایک نیا سکیورٹی اور سیاسی اتحاد تشکیل دینے کے واسطے خفیہ طور پر کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

وہائٹ ہاؤس اور مشرق وسطی کے عہدے داران کے مطابق منصوبے کا مقصد شمالی اوقیانوسی اتحاد کا عرب ایڈیشن یا عرب "نیٹو" کی تشکیل ہے۔

اس ایڈیشن کا مقصد میزائل دفاعی نظام، عسکری تربیت، انسداد دہشت گردی اور دیگر معاملات مثلا اقتصادی اور سفارتی تعلقات کی سپورٹ میں تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ میں اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ "خبردار ! اگر آپ نے دوبارہ امریکا کو کوئی دھمکی دی تو آپ کو ایسے نتائج بھگتنا ہوں گے جن کا سامنا تاریخ میں چند لوگوں کے سوا کسی کو نہیں کرنا پڑا"۔

ٹرمپ نے روحانی کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا کہ "ہم کوئی ایسی ریاست نہیں جو تشدد اور موت کے حوالے سے آپ کے انتشار انگیز الفاظ کے ساتھ مروّت کا معاملہ کرے۔ لہذا ہوش کے ناخن لیجیے !۔ "

ٹرمپ نے باور کرایا کہ "ہم امریکا کے لیے دوبارہ کوئی دھمکی ہر گز قبول نہیں کریں گے"۔

ٹرمپ کا مذکورہ موقف ایرانی صدر حسن روحانی کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے اتوار کے روز اپنے ملک کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "امریکا نے اپنی حکمت عملی پابندیوں، تہران کے نظام کے سقوط اور ایران کو توڑ دینے کی بنیاد پر ترتیب دی ہے"۔

دارالحکومت تہران میں ایرانی سفارت کاروں کے مجمعے کے سامنے روحانی نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ عسکری مقابلے کے حوالے سے کہا کہ یہ "جنگوں کی ماں" ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ وقت میں واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کرنا ایران کی جانب سے "ہتھیار ڈالنا" شمار ہو گا۔

امریکی پابندیوں کا پہلا مرحلہ چار اگست سے شروع ہو گا جب واشنگٹن گاڑیوں، سونے اور دیگر مرکزی سیکٹروں پر پابندیاں عائد کرے گا۔ اس کے بعد چھ نومبر کو پابندیوں کا زیادہ سخت مرحلہ آئے گا اور ایرانیوں کے تیل اور گیس کی برآمدات کو روک دیا جائے گا۔ ساتھ ہی ان دونوں سیکٹروں میں ایران کے ساتھ معاملات کرنے والی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔