ٹرمپ ایرانی عوام کو حکومت سے لڑانا چاہتے ہیں: روحانی

امریکا مذاکرات چاہتا ہے تو پہلے پالیسی بدلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔

ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے نئے ایٹمی مذاکرات کی بات کرنا اور ساتھ ہی دوبارہ پابندیاں عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ’وہ ایرانی قوم کے خلاف نفسیاتی جنگ کرنا چاہتے ہیں اور عوام میں تفریق ڈالنا چاہتے ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا ’مذاکرات کے ساتھ پابندیاں سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ ایران کے بچوں، مریضوں اور عوام پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

صدر روحانی نے نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے حق میں رہا ہے لیکن واشنگٹن کو پہلے یہ ثات کرنا ہو گا کہ اس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

’اگر آپ دشمن ہیں اور دوسرے پر چھرے سے وار کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اس چھرے کو ہٹانا ہو گا۔‘

’وہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ واپس ایٹمی معاہدے میں شامل ہو کر۔

صدر روحانی نے مزید کہا کہ ’امریکا ایران پر پابندیاں عائد کرتا ہے اور 2015 کے ایٹمی معاہدے سے نکل جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے براہ راست بات چیت کی دعوت انتخابات سے قبل امریکی عوام کے لیے ہے یا وہ ایران میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نیا ایٹمی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر رہا ہے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا: ’میں ایک نئے معاہدے کے لیے تیار ہوں جس میں ایرانی حکومت کی تمام منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو، جس میں اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور دہشت گردی کی پشت پناہی شامل ہیں۔‘

ایران پر امریکی پابندیاں کا پہلا مرحلہ پیر کی رات سے نافذ ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں