.

ڈرائیونگ کے بعد سعودی عرب میں خواتین کی کار ریس کا مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں طویل عرصے تک خواتین کے لیے گاڑی چلانے پر پابندی تھی۔ اس پابندی کے اٹھنے کے بعد اب خواتین کے کار ریس کے مقابلے بھی ہونے لگے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ مطابق جدہ میں مملکت کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کارٹون کار ریس کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ آخری مرحلے میں 10 خواتین کے درمیان مقابلہ تھا جب کہ مقابلے میں اول نمبر پرآنے والی خاتون کے لیے 10 ہزار ریال کا انعام رکھا گیا تھا۔

ادھر سعودی عرب کی آٹوموبائل وموٹرسائیکل فیڈریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی رکن اور سعودی عرب کی کار ویمن کارسپورٹس کی مندوبہ انجینیر اسیل الحمد نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کا کار ریس کامقابلہ اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ اسے عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور سراہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدہ ویمن کار ریس پوری قوم کے لیے خوشی اور مسرت کاپیغام ہے۔

اسیل الحمد نے کہا کہ جدہ میں ہونے والا یہ مقابلہ کارٹون کاروں کی شکل میں تھا مگر اس مقابلے بعد سعودی عرب عالمی سطح پر خواتین کے کارریس کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے تیار کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودیہ میں کار ریس کا مقابلہ دو مراحل میں مکمل ہوا۔ پہلے مرحلے میں جولائی میں20 خواتین کا آپس میں مقابلہ ہوا۔ جن میں سے 10 کو آخری مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا۔

26 اگست کوپانچ خواتین کوحتمی شکل دی گئی جب کہ مجموعی طور پر آخری مرحلے میں امجاد العمری، افنان الرغلانی، سراء مجاھد، مہا علوی، ایناس حمزہ، حور عبدالعزیز، ولمیاء الحسیل، عبیر الشھری، یاسمین العمودی اور ریم کیال نے شرکت کی۔

مقابلے میں امجاد العمری نے پہلی، ایناس حمزہ نے دوسری اور المیاء الحسیل نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کی کار ریس کا اہتمام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں سعودی عرب نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی ہے۔ خواتین کی کار ریس کا مقصد معاشرے میں پائی جانے والی گھٹن کوختم کرنا اور خواتین میں سپورٹس کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔