مصر : اور اب ’’زیرِ آب‘‘ جنسی ہراسیت کے واقعات شہ سرخیاں بننے لگے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مصر میں جنسی ہراسیت کے واقعات اب آئے دن کا معمول بنتے جارہے ہیں۔ اخلاق باختہ مرد خواتین کو ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ایسا ہی ایک واقعہ منگل کے روز پیش آیا ہے۔اس سے چند روز قبل مصری روزنامے ’’ یوم7‘‘ کے دفتر میں ایک صحافی نے اپنی ساتھی صحافیہ کو ایڈیٹوریل بورڈ کے کمرے میں زبانی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا تھا اور ایک ہفتہ قبل ایک مصری ساحل سمندر پر اپنی بیوی کو جنسی ہراسیت سے بچاتے ہوئے جان گنوا بیٹھا تھا۔

جنسی ہراسیت کا نیا واقعہ بحیرہ احمر کے کنارے واقع جنوبی شہر شرم الشیخ میں پیش آیا ہے ، جہاں ایک غوطہ خور انسٹرکٹر نے ایک غیرملکی سیاح خاتون کو ہراساں کیا ہے لیکن اس کی اس حرکت کی ایک پیشہ ور مصری خوطہ خور نے کمال مہارت سے تصاویر بنا لی ہیں۔

محمد ہانی نامی اس غوطہ خور نے العربیہ کو بتایا کہ وہ شرم الشیخ میں ایک سیاحتی کشتی پر سوار تھا۔اس دوران میں اس کو اس واقعے کا پتا چلا اور اس نے ان دونوں کی تصاویر بنا لی ہیں۔اس نے بتایا کہ اس نے ایک نوجوان خاتو ن سیاح کے ساتھ اس مصری غوط خور انسٹرکٹر کو پانی میں اور اس کے باہر قابل اعتراض میں حالت میں دیکھا تھا اور انھیں پتا چلے بغیر ان کی تصاویر بنا ئی ہیں۔بعد میں یہ پتا چلا کہ یہ غیرملکی سیاح خاتون روس سے تعلق رکھتی ہے۔

اس پیشہ ور غوطہ خور نے مزید بتایا کہ جب یہ دونوں پانی سے باہر آئے تو ان کے درمیان توتکار شروع ہوگئی اور روسی لڑکی وہاں سے بچ کر بھاگنے کی کوشش میں تھی۔جونھی اس نے ہماری کشتی کو دیکھا تو اس نے سکھ کا سانس لیا اور اس پر بٹھانے اور اس ’’ انسٹرکٹر‘‘ سے بچانے کی درخواست کی۔

محمد ہانی کے بہ قول اس نے اس معاملے کو رفع دفع کرانے کے لیے مداخلت کی کوشش کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کیا ہوا ہے اور اس کے پاس تصاویر کی صورت میں اس کا دستاویزی ثبوت بھی موجود تھا لیکن جب ہراساں کرنے والے اس شخص کو کیمرے میں تصاویر کی موجودگی کا پتا چلا تو اس نے ہانی کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔

اس مصری کا کہنا تھا کہ ’’اگر قانون اجازت دیتا تو میں خود اس شخص کو اس کے کیے کی سزا دے دیتا لیکن میں نے بعد میں اس کی تصاویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ اس ہراساں کرنے والے شخص کی اصلیت سب کے سامنے آجائے اور اس کی مذموم حرکت پر خود اس کی کمپنی اس کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور مصر ی سیاحت کے شعبے کی شہرت کو داغ دار ہونے سے بچائے‘‘۔

زیرِ آب  جنسی ہراسیت کے واقعے کی عکس بندی کرنے والے  غوطہ خور  محمد ہانی ۔
زیرِ آب جنسی ہراسیت کے واقعے کی عکس بندی کرنے والے غوطہ خور محمد ہانی ۔
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں