عراق میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون صدر کے عہدے کے لیے امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں ڈیموکریٹک پیٹریاٹک الائنس آف کردستان سے تعلق رکھنے والی سابق خاتون رکن پارلیمنٹ سروہ عبدالواحد نے اتوار کے روز خود کو ملکی تاریخ میں پہلی خاتون کے طور پر صدارتی منصب کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی آمادگیوں کے بعد وہ عراق کی پہلی خاتون صدر بن سکتی ہیں۔

سروہ عبدالواحد نے گزشتہ برس ستمبر میں عراق کے ریجن کردستان کی آزادی کے حوالے سے ہونے والے ریفرینڈم کی صریح مخالفت کی تھی۔

سروہ نے 1993ء میں بغداد یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے متعدد مقامی ذرائع ابلاغ میں بطور میڈیا پرسن کام کیا۔ وہ 1998ء میں وہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں۔

بعد ازاں سروہ سلیمانیہ کی کابینہ میں "ریلیشنز بیورو" کی رکن بن گئیں۔ انہوں نے 2014ء تک معاشرے میں خواتین کے حقوق کے دفاع کی کارکن کے طور پر کام کیا۔ اسی سال وہ اربیل صوبے میں ارکان پارلیمنٹ کونسل کی رکن بن گئیں۔

اپنی پارلیمانی ذمّے داریاں انجام دینے کے دوران انہوں نے امریکا میں امریکا میں کئی سیمینار منعقد کیے جن کا موضوع منفی ریفرینڈم کے کردستان پر سماجی ، اقتصادی اور سیاسی اثرات تھا۔

سروہ عبدالواحد تیسری شخصیت ہیں جنہوں نے خود کو ملک کے صدر کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان سے قبل کردستان نیشنل یونین کے برہم صالح اور آزاد امیدوار سردار عبداللہ بھی خود کو صدارت کے منصب کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ عراق میں صدارتی منصب کے لیے نامزد امیدوار کو پارلیمنٹ کے دو تہائی ارکان کے ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ابھی تک سیاسی گروپوں کی جانب سے کسی متعین امیدوار کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا ہے۔ اسی واسطے کردستان حکومت کے صدر نیجرفان بارزانی الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر سے ملاقات کرنے نجف پہنچ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں