عراق : حیدر العبادی کے اتحاد نے ’بڑے پارلیمانی بلاک ‘ کا اصول توڑنے کی مخالفت کردی
سیاسی عمل میں علاقائی اور بین الاقوامی مداخلت کا خیرمقدم کرنے والی جماعتیں تمام نتائج کی بھی ذمے دار ہوں گی
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی کے زیر قیادت النصر بلاک نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کے اصول کو توڑنے کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ اگر نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ایسا کیا جاتا ہے تو اس کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہوگی ۔
نصر بلاک نے ملک میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے نئے سیاسی گٹھ جوڑ کے حوالے سے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمان کا پہلا اجلاس بڑے بلاک کے مسئلے کو حل کرنے کی بنیا دہے ۔بڑے بلاک کا وفاقی عدالت کے 2010ء کے فیصلے کے مطابق اور پہلے پارلیمانی اجلاس کی روشنی میں تعیّن کیا جانا چاہیے۔
النصر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ آئینی طور پر ایک نیا بلاک تشکیل دیا جاسکتا ہے اور نہ اس مقصد کے لیے کوئی اور طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ بڑے بلاک کے اصول کو اگر نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ امر آئین کی صریح خلاف ورزی ہوگا اور جو جماعتیں بھی اس اصول کو توڑیں گی ، وہ اس کے تما م مضمرات کی خود ہی ذمے دار ہوں گی۔
اس نے مزید کہا ہے کہ پارلیمان کے پہلے اجلاس کے مطابق سب سے بڑے بلاک کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کرنا چاہیے اور وہ پھر نامزد وزیراعظم اپنی نئی کابینہ تشکیل دینے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کرے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان سمجھوتوں کی پالیسی اتحاد ، قومی سلامتی اور خود مختاری کی قیمت پر بروئے کار نہیں آنی چاہیے۔ایسے تمام سمجھوتےجن کی کوئی آئینی بنیاد نہیں ہوگی،ان کی کوئی قانونی حیثیت بھی نہیں ہوگی۔
النصر بلاک نے یہ تفصیلی بیان ان غیر سرکاری رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد جاری کیا ہے جن میں کہا گیا ہے سیاسی جماعتوں نے سابق نائب صدر اور وزیر تیل عادل عبدالمہدی کو وزارت ِ عظمیٰ کا ا میدوار نامزد کرنے سے اتفاق کیا ہے۔النصر نے عراق کے داخلی امور اور سیاسی عمل میں علاقائی اور بین الاقوامی مداخلتوں پر بھی خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ جو جماعتیں ایسی مداخلت کا خیرمقدم کررہی ہیں،وہ تمام نتائج وعواقب کی ذمے دار ہوں گی۔