.

غزہ پٹی کی سرحد پر اسرائیل کا "طاقت" کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے جمعرات کے روز غزہ پٹی کے ساتھ سرحد پر طاقت کے مظاہرے میں وہاں پر پھیلی اپنی بکتر بند فورسز میں اضافہ کر دیا۔ یہ پیش رفت فلسطینیوں کی جانب سے جمعے کے روز ہفتہ وار پُر امن احتجاج سے قبل سامنے آئی ہے۔

ادھر مصر کے سینئر سکیورٹی عہدے داران نے کشیدگی کم کرنے کے لیے غزہ پٹی پر حکمراں حماس تنظیم کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔

اس سے قبل اسرائیل کے شہر بئر السبع میں راکٹ گرنے سے ایک گھر کے تباہ ہونے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو "انتہائی سخت اقدام" کیا جائے گا۔ بنیامین نیتن یاہو نے یہ بات بدھ کے روز اپنی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں کہی۔

اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ راکٹ حملوں یا احتجاج کے دوران غزہ پٹی کے ساتھ واقع اسرائیلی سرحد میں دراندازی کی کوششوں سے ہر گز درگزر نہیں کرے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق غزہ پٹی کے ساتھ سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوج کے تقریبا 60 فوجی ٹینک اور فوجیوں کی بکتر بند بسیں پائی جا رہی ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ 2014ء میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے بعد عسکری ساز و سامان کی سب سے بڑی ٹکڑی ہے۔

دوسری جانب غزہ پٹی میں ایک فلسطینی ذمّے دار نے بتایا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مصری وفد کا اسرائیلی ذمّے داران ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ فلسطینی ذمّے دار کے مطابق صورت حال انتہائی حسّاس ہے اور کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔

فلسطینیوں کی جانب سے رواں سال 30 مارچ سے غزہ پیٹی کی سرحد پر ہفتہ وار احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین غزہ پٹی کے گرد اسرائیلی محاصرے کے خاتمے اور اُن فلسطینیوں کو واپسی کا حق دینے کا مطالبہ کرتے ہیں جو 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت ہجرت پر مجبور کر دیے گئے تھے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق مذکورہ احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے قابض اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے تقریبا 200 فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔