.

امریکا : ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے علاحدہ کرنے کے مطالبے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی سینئر ارکان کے ایک گروپ نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ماہ چار نومبر سے ایران پر عائد ہونے والی پابندیوں کو سخت بنایا جائے۔ گروپ نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ متوقع پابندیاں ہو سکتا ہے کہ تہران کو لگام دینے کے لیے کافی نہ ہوں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق کانگریس کے ارکان کے ایک گروپ کے علاوہ کانگریس سے باہر مشیروں کی جانب سے بھی ٹرمپ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے تا کہ وہ ایران پر انتہائی دباؤ مسلط کرنے کے حوالے سے اپنے کسی بھی وعدے سے پیچھے نہ ہٹیں۔ مذکورہ عناصر نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ متوقع پابندیوں میں ایسی شق بھی شامل ہو جو تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر الگ تھلگ کر دے۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ہفتے کے روز اُلٹی گنتی کا ایک کاؤنٹر وضع کیا ہے جو 4 نومبر کو اختتام پذیر ہو گا۔ یہ وہ ہی تاریخ ہے جس دن ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونا ہے۔

کاؤنٹر میں امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے وضع کردہ اُن 12 شرائط کو بھی دکھایا گیا ہے جن پر امریکا ایران کا عمل درامد چاہتا ہے۔

چار نومبر سے پابندیوں کے دوسرے مرحلے میں ایران کی تیل کی برآمدات کو حتمی طور پر نشانہ بنایا ہے۔

امریکا رواں سال مئی میں اُس جوہری معاہدے سے علاحدہ ہو گیا تھا جو ایران اور (5+1) عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے پایا تھا۔ اس فیصلے کے بعد واشنگٹن نے ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چند روز قبل ایک اعلان میں باور کرایا تھا کہ نومبر کے پہلے ہفتے مِں ایران پر لاگو ہونے والی پابندیاں "اسلامی جمہوریہ" کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں ہوں گی۔