حوثیوں کا وزیر مںحرف ہو کر آئینی حکومت میں شامل ہو گیا
مںحرف وزیر کا حوثیوں پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام
یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی نام نہاد حکومت کا ایک وزیر مںحرف ہونے کے بعد آئینی حکومت میں شامل ہوگیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں قائم یمنی سفارت خانے کے ایک باوثوق ذریعے نے بتایا کہ حوثیوں کی حکومت میں شامل عبدالسلام جابر نامی ایک اہم وزیر مںحرف ہونے کے بعد ریاض پہنچ گئے ہیں جہاں انہوںنے آئینی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق الجابر گذشتہ دو روز سے سعودی عرب میں ہیں جہاں انہوں نے آئینی حکومت کی اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یمنی سفارت خانہ عبدالسلام الجابر کے باغیوں کی حکومت سے الگ ہونے اور آئینی حکومت میں شمولیت کے اعلان کے حوالے سے آج اتوار کوایک پریس کانفرنس میں اس کی تفصیلات بیان کرے گا۔
دوسری جانب منحرف وزیر عبدالسلام الجابر کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حوثیوں پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام عایدکیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثیوں کی قائم کردہ جیلوں اور عقوبت خانوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔
الجابر کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق یمن کی الضالع گورنری سے ہے۔ وہ سات سال تک بیروت میں بھی قیام پذیر رہے۔ انہوں نے کئی سال تک حزب اور ایران کے تحقیقاتی مراکز میں بھی کام کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالسلام الجابر حوثیوں کی نام نہاد حکومت سے مںحرف ہونے والے تیسرے اہم وزیر ہیں۔ ان سے قبل دو دیگر وزراء بھی حوثیوں کی حکومت سے الگ ہوگئے تھے۔ حوثیوں کے نائب وزیر تعلیم نے حال ہی میں علاحدگی کے اعلان کے بعد سعودی عرب میں رہائش اختیار کرلی ہے اور اب حوثیوں کے وزیر اطلاعات عبدالسلام الجابر بھی باغیوں کے جنگی جرائم کی تصدیق کرتے ہوئے مںحرف ہوکر سعودی عرب پہنچ گئے۔