لبنان : سعد حریری حکومت تشکیل دینے کے لیے متحرّک
بیروت میں باخبر ذرائع کے مطابق لبنان میں نامزد وزیراعظم سعد حریری صدر میشیل عون، پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اور لبنانی سیاسی جماعتوں کے متعدد سربراہان سے رابطے کر رہے ہیں تا کہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے آخری پیش رفت کو زیر بحث لایا جا سکے۔ حریری آج منگل کے روز ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کریں گے۔
لبنانی عوام کو شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے اپنے من پسند وزراء کے تقرر سے متعلق موقف کے جواب میں سعد حریری کا موقف جاننے کا شدت سے انتظار ہے۔ اس حوالے سے ایوان صدر کی جانب سے مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ لبنانیوں کا خیال ہے کہ 30 برس قبل طے پانے والے "طائف معاہدے" نے اس نوعیت کے معاملات کا فیصلہ کر دیا تھا۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے حالیہ خطاب میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مذکورہ معاہدہ اپنے دن پورے کر چکا ہے۔ طائف معاہدے کے نتیجے میں لبنان میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔
ادھر پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری بھی ملک کی صورت حال بالخصوص اقتصادی بحران کے حوالے سے خبردار کرنے سے نہ رک سکے۔
اگرچہ سعد حریری کی جانب سے حکومتی تشکیل کے مشن سے معذرت کر لینے کو خارج از امکان قرار دیا جا رہا ہے ،،، تاہم مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کا لہجہ اور ان کے خطاب کا متن یہ دونوں باتیں حکومتی تشکیل سے کہیں آگے تک جا رہی ہیں۔ یہ امر سیاسی نظام کے ایک بحران کی حدوں تک پہنچ رہا ہے جس سے یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ آیا لبنان کو ایک تاسیسی کانفرنس کی ضرورت ہے۔