اسرائیلی پولیس کی جارحانہ کارروائی ،مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی گورنر دوبارہ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس ( یروشلیم ) کے فلسطینی گورنر عدنان غیث کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔ انھیں چند ہفتے قبل بھی اراضی کی فروخت کے ایک معاملے پر اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عدنان غیث کو مشرقی القدس میں رات گرفتار کیا گیا تھا۔انھیں آج یروشلیم کے میجسٹریٹ کی عدالت میں ریمانڈ کی سماعت کے لیے پیش کیا جارہا ہے اور وہاں ان کے خلاف الزامات کی تفصیل جاری کی جاسکتی ہے۔

عدنان غیث کو قبل ازیں 20 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان سے اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت نے دو روز تک پوچھ تاچھ کی تھی اور پھر رہا کردیا تھا۔اسرائیلی ایجنسی نے تب کہا تھا کہ انھیں فلسطینی اتھارٹی کی یروشلیم میں غیر قانونی سرگرمی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے 4 نومبر کو ان کے دفتر میں چھاپا مار کارروائی کی تھی اور اس کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا تھا۔اسرائیلی میڈیا نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ حکام نے گورنر عدنان سے فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھوں ایک شخص کی گرفتاری پر پوچھ تاچھ کی تھی۔اس شخص کو مشرقی القدس میں ایک یہودی آبادکار کو اراضی فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے مشرقی القدس میں فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی کی فروخت پر پابندی عاید کررکھی ہے اور اس اقدام کو غداری سمجھا جاتا ہے۔فلسطینیوں سے بالعموم صہیونی آبادکار اراضی یا مکانات خرید کرتے ہیں اور پھر وہاں آباد ہوجاتے ہیں۔اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق اراضی فروخت کرنے والا شخص فلسطینی ہے اور اس کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔

فلسطینیوں نے گورنر کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں تنظیمِ آزادی فلسطین ( پی ایل او ) کے سینیر مشیر فواد حلق نے کہا ہے کہ عدنان غیث کی گرفتاری اسرائیل کا فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے اور وہ زیر حراست فلسطینی، امریکی کو رہا کرانا چاہتا ہے۔

یادرہے کہ اسرائیل نے مشرقی القدس پر 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں قبضہ کر لیا تھا اور پھر 1980ء میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔اب وہ مشرقی اور مغربی القدس دونوں کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی شہر کے مشرقی حصے کو مستقبل میں اپنی قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی اتھارٹی کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کررکھی ہے جس کے بعد اتھارٹی نے بیت المقدس کے امور کے ذمے دار وزیر اور گورنر کے دفاتر شہر کے دوسری جانب اسرائیل کی علاحدگی کی دیوار کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع علاقے الرام میں منتقل کر دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں