سعودی عرب کے ساتھ تعلقات منقطع نہ کیے جائیں : معروف امریکی ادارہ
امریکا میں "میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹکنالوجی" MIT نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنا جائزہ مکمل کرنے کے بعد یہ نتیجہ پیش کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے تناظر میں ادارے کو مملکت کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں کرنا چاہئیں۔
ایم آئی ٹی کے ڈین رچرڈ لیسٹر نے جمعرات کے روز اپنی سفارشات پیش کیں۔ لیسٹر سے اس جائزے کا مطالبہ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ رفائیل رائف نے کیا تھا۔
رفائیل رائف تمام ردود عمل اکٹھا کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔
اس سے قبل امریکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے کیے جانے والے تجزیے میں نتیجے کے طور پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ دنیا کی سب سے بڑی سعودی تیل کمپنی "ارامكو" نے گزشتہ سمجھوتے کی مد میں چالیس لاکھ ڈالر پیش کیے تھے۔
رچرڈ لیسٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کو مالی رقوم فراہم کرنے والی کوئی بھی تنظیم خاشقجی کے قتل میں کسی بھی کردار کی حامل نہیں۔ رپورٹ کے مطابق تعلقات منقطع کرنے کے لیے کوئی بھی "اطمینان بخش حجت" نہیں پائی جاتی۔
واضح رہے کہ "میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹکنالوجی" MIT کا شمار دنیا کے معروف ترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔
-
اوپیک تیل کی مارکیٹ میں توازن کے لیے پیداوار میں’ ’مناسب کٹوتی‘‘ چاہتی ہے: سعودی عرب
سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ملکوں ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب میں اعلی ثانوی مرحلے کے لیے نیا نصاب
سعودی عرب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر احمد العیسی نے مملکت میں اعلی ثانوی مرحلے کے نئے ...
مشرق وسطی -
عرب دنیا میں سعودی عرب بنیادی ستون کی حیثیت کا حامل ہے: پوپ تواضروس
مصر کے قبطی آرتھوڈکس چرچ کے پوپ تواضروس دوم نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ...
بين الاقوامى