.

سیف الاسلام قذافی کو لیبیا کا صدر بنانے کے لیے نئی مہم شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں رواں ہفتے ایک نئی مہم سامنے آئی ہے جس میں مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو ملک کا صدر بنانے کی حمایت کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قذافی حکومت کے حامیوں کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم میں سیف الاسلام کو مارچ سنہ 2019ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی حمایت کی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ لیبیا میں سیف الاسلام پر عاید کردہ سیاسی پابندیوں کے خاتمے اور ان کے سیاسی قد کاٹھ اور قبائلی سردار کی حیثیت سے ملک کے سیاسی عمل میں‌حصہ لینے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔

"ہم نے آپ کونامزد کیا" کے عنوان سے جاری اس مہم میں معمر القذافی کے حامی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی مقامی قبائل اور مہاجرین بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ وہ لیبیا میں قذافی کی حکومت کی بحالی کے لیے پرجوش ہیں تاکہ کرنل القذافی کے بے دردی سے قتل اور اقتدار کھو دینے کے بعد قذافی خاندان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔

اسی حوالے سے ایک مقامی دانشور اور "مینڈیلا" تحریک کے بانی محمد الرمیح نے کہا کہ سیف الاسلام القذافی کو صدارتی امیدوار بنانے کی حمایت میں جاری مہم میں ملک کے کئی طبقات حصہ لے رہےہیں۔ ان میں عرب، امازیغ اور طوارق قبائل" خاص طورپر پیش پیش ہیں۔ دوسری جانب ملک کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ ملک جس بحران سے گذر رہا ہے اس کا حل صدارتی انتخابات اور قذافی خاندان کی اقتدارمیں باوقار واپسی میں ہے۔ جب تک ملک میں ایک بار پھر معمرالقذافی کےحامیوں کی حکومت نہیں آتی اس وقت تک بے چینی کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ سیف الاسلام القذافی جون 2017ء کو جیل سے رہائی کے بعد منظرپرنہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کا اعلان کیا ہے۔