لبنان : حکومت کی تشکیل کے لیے حزب اللہ کی بے بس کر دینے والی شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا نے سات ماہ سے تعطل کا شکار حکومتی تشکیل انجام پانے کے لیے "سخت" شرائط رکھ دی ہیں۔

ان شرائط میں شام میں بشار حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا، بشار حکومت کو بیروت میں اقتصادی ترقیاتی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے دعوت دینا، حزب اللہ پر عائد پابندیوں کے حوالے سے حکومت کا واضح سرکاری موقف متعین کرنا اور عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا کی طرز پر لبنان میں حزب اللہ کے کردار کو قانونی حیثیت دینا شامل ہے۔

لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق معاہدے کو کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نامزد وزیراعظم سعد حریری مختلف متسابق گروپوں سے تعلق رکھنے والے 30 وزراء پر مشتمل حکومت بنانے کے سمجھوتے تک پہنچنے کے واسطے کوشاں رہے۔

اس سلسلے میں آخری رکاوٹ یہ سامنے آئی کہ حزب اللہ ملیشیا انتخابات میں اپنے حلیف سنی گروپوں کے واسطے حکومت میں ایک نشست کا مطالبہ کر رہی ہے جب کہ حریری نے اس کو خارج از امکان قرار دیا۔

لبنان جی ڈی پی کے مقابل قرضوں کے سب سے زیادہ تناسب کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ جون میں عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا تھا کہ لبنان میں قرضوں کی صورت حال کو بہتر حالت میں لانے کے واسطے اصلاحات کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں