حوثی ملیشیا سویڈن معاہدے سے رُوگردانی کر رہی ہے: یمنی وزیر اطلاعات
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ سویڈن مذاکرات میں شریک حوثیوں کا وفد طے پائے گئے معاہدے پر عمل درامد سے دو روز قبل اس سے رُوگردانی کی کوشش کر ہا ہے۔ یہ بیان حوثیوں کے وفد کے ایک رکن عبد الملک العجری کی اُس ٹوئیٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ سویڈن معاہدے میں الحدیدہ کی بندرگاہ کو حوالے کرنا یا الحدیدہ سے حوثیوں کا انخلا شامل نہیں بلکہ سمجھوتے میں صرف یہ بات شامل ہے کہ الحدیدہ شہر کے اطراف سے عرب اتحاد کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی فورسز کو ہٹا لیا جائے۔
یہ بیان یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور اقوام متحدہ کے موقف کے صریح برخلاف ہے۔
یمن کی آئینی حکومت نے حوثیوں کے موقف کو سویڈن معاہدے سے کھلی بغاوت شمار کیا ہے ، وہ معاہدہ جس پر کیے گئے دستخط کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی ہے۔ یمنی حکومت کے مطابق سمجھوتے کے متن میں الحدیدہ، اس کی بندرگاہوں، الصلیف اور ورأس عيسى سے حوثیوں کا انخلا شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے سمجھوتے کی پاسداری کریں اور اسٹاک ہوم معاہدے کی شقوں پر فوری عمل درامد کو یقینی بنائیں۔
ذرائع کے مطابق سویڈن معاہدے کے نفاذ کا آغاز منگل سے ہو گا۔
-
سویڈن سمجھوتے کے بعد حوثیوں کی جانب سے دھمکیاں اور گرفتاری کی کارروائیاں
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے سویڈن سمجھوتے پر ...
مشرق وسطی -
سویڈن امن مذاکرات میں طے شدہ سمجھوتے پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا؟
یمن کی قانونی حکومت اور حوثی باغیو ں کے درمیان ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ ...
بين الاقوامى -
ہم یمنی بحران کے اختتام کا آغاز دیکھ رہے ہیں: انتونیو گوٹیریس
سویڈن امن مذاکرات میں یمن کے متحارب فریقوں نے حقیقی پیش رفت کی ہے
بين الاقوامى