ایرانی پولیس 'اھواز' میں نہتے مظاہرین پر پل پڑی، 28 مزدور گرفتار
ایران کے عرب اکثریتی شہر 'الاھواز' میں احتجاج مسلسل 38 روز میں جاری ہے۔ دوسری جانب ایرانی پولیس نے نہتے مظاہرین پر حملہ کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور کم سے کم 28 مزدوروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے الاھواز میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ایرانی پولیس کےہاتھوں پرتشدد حربوں کے استعمال کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں۔
اس موقع پر الاھواز کے ایک مرکزی بازار میں مظاہرین کو احتجاج کرتے اور ان کا محاصرہ کیے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
"کارگر #زندانی، حمایتت میکنیم"/ امروز دوشنبه ۲۶ آذر ۱۳۹۷، جمعی از #کارگران گروه ملی #فولاد_اهواز نسبت به برآورده نشدن مطالباتشان، اقدام به برگزاری #تجمع اعتراضی کردند. pic.twitter.com/Cs3wuWx33b
— خبرگزاری هرانا (@hra_news) December 17, 2018
#اهواز
— UlτrαRεbεl (@Amirhoseen_) December 17, 2018
به رغم دستگیری ها حرکت ادامه دارد#اعتراضات_سراسری pic.twitter.com/gsGTrffZsi
نیروهای انتظامی سركوبگر برای مقابله با اعتراضات کارگران معترض فولاد #اهواز که سی و هشتمسن روز تظاهرات خود را در خیابانهای شهر اهواز ادامه میدهند pic.twitter.com/Fy7hEu633a
— AhwazHumanRights Org (@AhwazAhro) December 17, 2018
الاھواز کی فری لیبریونین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے کریک ڈائون میں کم سے کم 28 مزدوروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار کئے جانے والے شہریوں کی شناخت میثم علی قنواتی، عیسیٰمرعی، امین علوانی، مرتضیٰ اکبریان، طارق خلفی، مسعود عفری، جعفر سبحانی، مصطفیٰ عبیات، غریب حویزاوی، کریم صیاحی، حامد باصری، حافظ کنعانی،حامد جودکی، حسین دائودی، کاظم حیدری، یاسر ابراہیمیان، مجید جنادلہ، کوروش اسماعیلی، علی عقبا، محسن بلوطی، محمد پور حسن، محسن بہباتی، سید حبیب طباطبائی، جاسم رومزی، علی اتمامی، سید علی جواد پوری اور عبدالرضا دستی کے ناموں سے کی گئی ہے۔