.

شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے اتفاق رائے نہیں ہوسکا: ابو الغیط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا ہے کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے حوالے سے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2011ء سے شام میں شروع ہونے والے مظاہروں کو طاقت سے کچلنے اور ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی وجہ سے شام کی رکنیت معطل کردی گئی تھی جسے بحال نہیں کیا جا سکا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں انقلابی تحریک کو کچلنے اور اسے ناکام بنانے کے لیے اسد رجیم نے روس اور ایران کا سہارا لیا۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اپنے دورہ بیروت کےموقع پر کہا کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے ارکان کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں باریکی کے ساتھ اس معاملے کو دیکھ رہا ہوں مگر مجھے امید نہیں کہ شام کی جلد عرب لیگ میں واپسی کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے حوالے سے وزراء خارجہ سطح کا اجلاس بلائے جانے کا امکان نہیں ہے۔

عرب لیگ کی سربراہ کانفرنس مارچ کے آخر میں تیونس میں گی۔ اس کانفرنس میں شام کی عرب لیگ میں واپسی کے موضوع پرغور کیا جاسکتا ہے۔ احمد ابو الغیط کا کہنا ہے کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے سربراہ کانفرنس سے قبل وزراء خارجہ سطح کا اجلاس ضروری ہے۔