یمن میں سویڈن معاہدے پر عمل درامد کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے دباؤ کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے شہر الحدیدہ میں بین الاقوامی مبصرین کی ٹیم کے قائد مائیکل لولزگارڈ نے باور کرایا ہے کہ یمن کے حوالے سے عالمی سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کے روز منعقد ہو گا اور سویڈن معاہدے پر عمل درامد کے لیے بڑے پیمانے پر سیاسی دباؤ ڈالا جائے گا۔

ڈینش جنرل لولزگارڈ نے بدھ کے روز حوثیوں کے ساتھ اجلاس کے بعد کہا کہ عالمی برادری کی نظریں الحدیدہ پر مرکوز ہیں یہاں تک کہ سویڈن معاہدے کے مختلف مراحل پر مقررہ عرصے کے مطابق عمل درامد مکمل ہو جائے۔

حوثی ملیشیا نے یمن میں امن کوششوں پر منگل کے روز اس وقت ایک کاری ضرب لگائی جب انہوں نے بحر احمر کی فلور ملوں میں غلے کے گوداموں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا جب کہ صنعاء میں اقوام متحدہ کے سینئر مبصرین اسٹاک ہوم معاہدے پر عمل درامد کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

مذکورہ گوداموں میں موجود غلے کو برباد نہ کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے حوثیوں کو خبردار کرنے کی کوششیں بے فائدہ ثابت ہوئی ہیں۔ غلے کی یہ مقدار 37 لاکھ افراد کے لیے کافی ہے۔

حوثیوں کی جانب سے بدھ کے روز بھی ایک مارٹر گولا ایک فلور مل کے نزدیک گرا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ باغی ملیشیا کو اقوام متحدہ کی تنبیہات کی کوئی پروا نہیں۔ یاد رہے کہ حوثیوں نے تمام راستوں کی بندش کر رکھی ہے جس کے سبب امدادی ٹیمیں پانچ ماہ سے بحر احمر کے ساحلوں پر واقع فلور ملوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں