وارسا کانفرنس کے دوران پاسداران انقلاب پر حملہ محض اتفاق نہیں: جواد ظریف
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظريف نے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہونے والی کانفرنس کو ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بس پر حملے کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ اس خودکش حملے کے نتیجے میں 41 اہل کار ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔
ظریف کے مطابق کانفرنس اور حملے کا بیک وقت ہونا کوئی اتفاق نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کانفرنس کے منتظم امریکا پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکا پھر سے وہ ہی غلطی دہرا رہا ہے اور مختلف نتائج کی توقع رکھتا ہے۔
ادھر ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے دھمکی دی ہے کہ حملے میں ملوث عناصر سے انتقام لیا جائے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ کارروائی ایران کو مجبور کر دے گی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بے رحمانہ معرکہ آرائی انجام دے۔
ایرانی میڈیا نے حملے کا الزام ایک سنی جماعت پر عائد کیا ہے۔ جیش العدل نامی اس تنظیم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ القاعدہ کی پیروی کرتی ہے۔
جیش العدل نے اس خود کش حملے کی ذمے داری قبول کی ہے جس میں صرف ایرانی پاسداران انقلاب کے 27 ارکان مارے گئے۔ کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان کی بس کو گولہ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب کہ زاہدان سے کیش جا رہی تھی۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس کے مطابق جیش العدل اپنے حملوں کے ذریعے تہران پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے تا کہ بلوچ اقلیت کے واسطے زیادہ حقوق حاصل کیے جا سکیں۔
اس حملے نے ایرانی عہدے داران کو چراغ پا کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے جیش العدل سے انتقام کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں بدھ کے روز مشرق وسطی میں امن و استحکام مضبوط بنانے کے حوالے سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ دو روزہ کانفرنس میں دس عرب ممالک سمیت 70 ملکوں کے نمائندگان شرکت کر رہے ہیں۔ امریکا اس کانفرنس کے ذریعے ایران کو تنہا کرنے کے مقصد سے اپنی پالیسی کے لیے سپورٹ اکٹھا کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔ جمعرات کی سہ پہر اختتام پذیر ہونے والی کانفرنس میں دیگر علاقائی چیلنج بھی زیر بحث آئیں گے۔