گولن نیٹ ورک سے تعلق کے شبے میں 300 ترک فوجیوں‌ کے وارنٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک حکام نے جلا وطن رہ نما اور مذہبی مبلغ فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے ساتھ تعلق کے الزام میں 300 فوجی افسران اور سپاہیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ فتح اللہ گولن اور ان کے گروپ پر سنہ 2016ء کو صدر طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عاید کیا جاتا ہے مگر وہ اس الزام کو رد کر چکے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ترک پراسیکیوٹر جنرل نے فوج کے 295 حاضر سروس افسروں اور اہلکاروں کے وارنٹ جاری کیے گئےہیں۔ ان میں سے نصف تعداد بری فوج کے اہلکاروں پر مشتمل ہے اور ان میں دو افسر کرنل کے رینک کے ہیں۔ ان میں سے گرفتار کیے گئے فوجیوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔

ترکی کے پراسیکیوٹری جنرل کا کہنا ہے کہ جن فوجیوں کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، وہ 70 سالہ فتح اللہ گولن کی جماعت کے ارکان ہیں۔ فتح اللہ گولن کئی سال سے خود ساختہ امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزر رہے ییں۔ ان پر جولائی 2016ء کو حکومت کا تختہ الٹنے اور فوج کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن اور فتح اللہ گولن ماضی میں‌ حلیف رہے ہیں۔ ترک صدر نے الزام عاید کیا ہے کہ فتح اللہ گولن نے متوازی حکومت کے قیام کے لیے اپنے حامیوں کو فوج، تعلیمی اداروں، عدالتوں اور ذرائع ابلاغ میں پھیلنے کی ہدایت کی تھی۔ ان لوگوں‌ نے سنہ 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کی مگر اس میں‌ وہ بری طرح ناکام ہو گئے تھے۔

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد اب تک 55 ہزار افراد کو گرفتار اور ایک لاکھ 50 ہزار کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ ناکام بغاوت کے تین سال بعد بھی گرفتاریاں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں