عراق : موصل کے نزدیک دریائے دجلہ میں کشتی ڈوب جانے سے 72 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے شمالی شہر موصل کے نزدیک دریائے دجلہ میں جمعرات کو ایک مسافر کشتی ڈوب جانے سے بہتر افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق کشتی مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور دریا میں ڈوب گئی ۔ عراقی رصدگاہ نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ حادثے میں پینسٹھ افراد مارے گئے ہیں اور تیس لاپتا ہیں۔

صوبہ نینوا کے محکمہ شہری دفاع کے سربراہ کرنل حسام خلیل نے بتایا ہے کہ کشتی کے حادثے میں مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں اور وہ کشتی الٹ جانے کے بعد تیر نہیں سکے تھے۔ امدادی ٹیمیں حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں اور انھوں نے بارہ افراد کو بچا لیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کشتی ایک فنی خرابی کی بنا پر دریا میں ڈوبی ہے اور حادثے کے وقت اس علاقے میں کوئی زیادہ کشتیاں موجود نہیں تھیں جن کی مدد سے لوگوں کو بچایا جاسکتا۔دریا میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے پانی کی سطح بھی بلند تھی۔

عراق کی وزارت داخلہ کے ایک عہدہ دار کا کہنا ہے کہ کشتی کا یہ حادثہ کردوں کے نئے سال نوروز کے آغاز کے موقع پر پیش آیا ہے۔ اس میں بعض خاندان اور بچے سوار تھے اور وہ موصل میں ایک سیاحتی مقام کی جانب نوروز کی تقریبات میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔

عراق کی وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے حادثے میں تیس خواتین ، بارہ بچّوں اور دس مردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ حادثے کے بعد دریا میں ڈوب جانے والے تیس افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے اور ابھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم حادثے کا شکار ہونے والی بدقسمت کشتی میں کل کتنے افراد سوار تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں