.

سعودی عرب میں‌ تعینات نئے امریکی سفیرجنرل جان ابی زید سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے معروف شخصیت جنرل جان ابو زید کو سعودی عرب میں نیا سفیرمقرر کیا ہے۔ وہ جمعرات کےروز اپنی سفارت ذمہ داریاں سنبھالنے الریاض پہنچے جہاں سرکاری سطح پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

سعودی میں قائم امریکی سفارت خانے کی آفیشل ویب سائیٹ کی طرف سے جنرل جان ابی زید اور ان کی اہلیہ کو سعودی عرب آمد پرانہیں خوش آمد کہا گیا۔ جنرل جان ابی زید سفارتی محاذ میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کی سعودی عرب آمد پران کا گرم جوش استقبال کیا گیا۔ ابی زید مشرق وسطیٰ‌میں سفارت کاری کا طویل اور پیشہ وارانہ تجربہ رکھتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں‌نے سعودی عرب کے علاقائی کردارکا اعتراف کرتے ہوئے کہاتھاکہ 'میں‌یہ بات پورے وثوق سےکہتا ہوں کہ مملکت سعودی عرب امریکا کا خطےمیں کلیدی اتحادی تھا اورآئندہ بھی رہے گا'۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جان ابی زید کو نومبر 2018ء کو سعودی عرب کے لیے نیا سفیر مقررکرنے کی تجویز دی تھی۔ اپریل 2019ء کو امریکی سینٹ کی طرف سے بھی صدر کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔

جنرل ریٹائرڈ جان ابی زید سنہ 2007ء کوامریکی فوج سےریٹائر ہوئے۔انہوں‌ نے امریکی آرمی میں اہم عہدوں پر 34 سال سروس کی۔ وہ انفنٹری پلٹون کی قیادت سے ترقی کرتے ہوئے فوراسٹار جنرل کے عہدے تک پہنچے اور اس کے بعد طویل عرصے تک سینٹرل کمانڈکے سربراہ رہے۔ انہوں‌نے امریکی وزارت دفاع میں جوائنٹ کمیٹی میں اسٹرٹیجک پلاننگ کے ڈائریکٹر کے طورپر پربھی کام کیا۔ سنہ 2002ءسے2003ءکے دوران وہ جوائنٹ کمیٹی کے ڈائریکٹر رہے۔ انہوں‌نے ایک فوجی افسرکے طورپر مشرق وسطیٰ میں طویل پیشہ وارانہ خدمات انجام دیں۔

جنرل ابی زید عرب ممالک کی ثقافت، عربی زبان اور مشرق وسطیٰ کے عقاید کے ماہر سمجھتے ہیں۔ جنگ اور امن ہرمیدان شہسوار ہونے کی بہ دولت سعودی عرب میں ان کی تعیناتی انتہائی موزوں فیصلہ ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں‌نے عسکری مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے "جے بی اے پارٹنرز" کےنام سے ایک کنسلٹنٹ لیمیٹڈ کمپنی قائم کی۔ انہوں‌ نے ویسٹ پوائنٹ میں قائم امریکی ملٹری اکیڈمی میں انسداد دہشت گردی کے شعبے کے سربراہ کے طورپر بھی کام کیا۔

جان ابی زید نے سنہ 1973ء میں گریجوایشن کے بعد ملٹری اکیڈمی میں اپنی فوجی سروس کا آغاز کیا۔۔ سنہ 1981ء کوانہوں‌نے امریکا کی ہاروڈ یونیورسٹی سے مڈل ایسٹ اسٹڈیز میں ایم اے کیا۔ فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے بہترین کارکرگی کا مظاہرہ کرنے پرانہیں کئی تمغوں سے نوازاگیا۔ انہیں یہ تمغے امریکا کےعلاوہ جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، افغانستان اور مصر کی طرف سےدیئے گئے۔