یمن کے مرکزی بینک کا اجلاس، کمرشل بینکوں کو درپیش حوثیوں کے خطرے کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عدن میں یمن کے مرکزی بنک کے صدر دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی بنکوں اور چیمبرز آف کامرس کے سربراہان کے علاوہ متعدد تاجر اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا جن کا مقصد صنعاء میں کام کرنے والے اُن کمرشل بنکوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جن کو حوثی باغیوں کی جانب سے دباؤ اور جبری وصولی کا سامنا ہے۔

حوثی ملیشیا نے کمرشل بنکوں کو جن کی تعداد 17 ہے ... مالی رقوم کی صورت میں جبری بھتوں کی ادائیگی پر مجبور کر رکھا ہے۔ اس جبری ٹیکس کا سالانہ حجم 24 ارب یمنی ریال تک جا پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ حوثی باغی ہر بنک کے سالانہ منافع سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔

اسی طرح منی ایکسچینجرز کے دفاتر اور کمپنیاں بھی لائسنس کی تجدید کے ٹیکس بھرتے ہیں۔ یہ رقم آخر کار حوثیوں کی جنگ میں بطور فنڈنگ کام آتی ہے۔ حوثی ملیشیا کو ایران پر عائد مالی پابندیوں کے نتیجے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تہران کو حوثی باغیوں کی فنڈنگ کا مرکزی عنصر شمار کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں