.

یمن کے مرکزی بینک کا اجلاس، کمرشل بینکوں کو درپیش حوثیوں کے خطرے کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدن میں یمن کے مرکزی بنک کے صدر دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی بنکوں اور چیمبرز آف کامرس کے سربراہان کے علاوہ متعدد تاجر اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا جن کا مقصد صنعاء میں کام کرنے والے اُن کمرشل بنکوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جن کو حوثی باغیوں کی جانب سے دباؤ اور جبری وصولی کا سامنا ہے۔

حوثی ملیشیا نے کمرشل بنکوں کو جن کی تعداد 17 ہے ... مالی رقوم کی صورت میں جبری بھتوں کی ادائیگی پر مجبور کر رکھا ہے۔ اس جبری ٹیکس کا سالانہ حجم 24 ارب یمنی ریال تک جا پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ حوثی باغی ہر بنک کے سالانہ منافع سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔

اسی طرح منی ایکسچینجرز کے دفاتر اور کمپنیاں بھی لائسنس کی تجدید کے ٹیکس بھرتے ہیں۔ یہ رقم آخر کار حوثیوں کی جنگ میں بطور فنڈنگ کام آتی ہے۔ حوثی ملیشیا کو ایران پر عائد مالی پابندیوں کے نتیجے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تہران کو حوثی باغیوں کی فنڈنگ کا مرکزی عنصر شمار کیا جاتا ہے۔