.

تاریخ کے اوائل سے ہی مکہ معظمہ "انسانی اجتماعات" کا مرکز چلا آ رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ معظمہ کو کئی دوسرے ناموں سےبھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان میں اُم القری اور 'بکہ' تاریخ میں‌ مشہورزیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کعبہ، بیت الحرام، بیت العتیق بھی مکہ سے منسوب نام ہیں۔ ان تمام ناموں کے علاوہ اور بھی نام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرۃ ارض پر مکہ معظمہ واحد شہر ہے جسے اتنے زیادہ ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

مکہ معظمہ زمین پر اہل اسلام کا مقدس ترین شہر ہے۔ قرآن پاک میں سب سے زیادہ جن شہروں‌ کا نام آیا ان میں بھی مکہ معظمہ سب سے آگے ہے۔ صدیوں سے یہ شہر مسلمانوں کی توجہ کو مرکز ہے۔

مکہ معظمہ کو قرآن پاک میں 'بکہ'، 'بیت العتیق'اور 'بلد الامین' جیسے ناموں سے یاد کیا گیا۔ مکہ جیسا زمین پر اور کوئی دوسرا مقام نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پانچ ہزار سال قبل اس شہر میں‌ اللہ کے گھر کی بنیادیں اٹھائیں۔ اس وقت مکہ ایک بے آب سرزمین تھی مگر اللہ نے سے انسانوں کا مرجع بنا دیا۔

مکہ کی تعمیر و ترقی

’’وادی غیر ذی زرع‘‘ میں خانہ کعبہ کی تعمیر ہی یہاں‌ پر تعمیرات کی خشت اول ثابت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت توحید سے ہی مکہ کی تعمیر وترقی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں‌ بھی اس کی وضاحت موجود ہے۔

احادیث نبوی اور مستند تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے بعد ان کی اولاد میں مبعوث ہونے والے انبیاء کرام بیت اللہ کی زیارت کے لیے مکہ کی سرزمین میں اترتے رہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا کہ 'ایسا کوئی نبی نہیں جس نے اس گھر یعنی کعبہ کا حج نہ کیا ہو'۔

تاریخ کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو خانہ کعبہ کے ذکر سے خالی ہو۔ تمام مؤرخین چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم اور مستشرقین ہر ایک نے مکہ اور کعبہ شریف کے تقدس کا ذکر اپنی کتاب میں ضرور کیا ہے۔

مکہ معظمہ اور مملکت سعودی عرب کی تاریخ

سرزمین حجاز میں آل سعود کی حکومت کے قیام کے بعد مکہ معظمہ تعمیرو ترقی کے عروج پر پہنچ گیا۔ تیسری سعودی مملکت کے آغاز سے آج تک مکہ معظمہ کی تعمیرو ترقی کا سفر جاری رہے۔ شاہ عبدالعزیز نے مکہ معظمہ کو خصوصی اہمیت دی اور غیرمعمولی ترقیاتی سرگرمیاں شروع کیں۔

بعد میں آنے والے فرمانروائوں نے مکہ کی تعمیرو ترقی کا سفر جاری رکھا۔ آج مکہ معظمہ کا شمار دنیا کے چوٹی کے ترقی یافتہ شہروں میں ہوتا ہے۔ مکہ تعمیر وترقی کا ایک پہلو حجاج اور معتمرین کے لیے سہولیات سے وابستہ ہے۔ ہرسعودی حکومت نے اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے بساط سے بڑھ کر کام کیا۔ اسی خدمت کے صلے میں سعودی حکمران 'خادم الحرمین الشریفین' کے لقب سے متصف ہوگئے۔

مکہ معظمہ اور انسانی اجتماعات

انسانوں کے سب سے بڑے جم غفیر اور انسانی اجتماع کے حوالے سےبھی دنیا کا کوئی شہر مکہ کا ہم پلہ نہیں۔ ہرسال لاکھوں‌ فرزندان توحید حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں‌جمع ہوتے ہیں۔ حجاج کرام کی تعداد 2 ملین سے بڑھ جاتی ہے۔اس کےعلاوہ پورا سال عمرہ کی سعادت کے لیے مسلمانوں کی بیت اللہ میں آمد ورفت جاری رہتی ہے۔