.

انقلاب کے ’’وقار‘‘ کو گزند پہنچانے والے مذاکرات منظور نہیں: مرشد اعلیٰ

ایرانی رجیم ملک کے جوہری پروگرام کو بھی' انقلاب کا زیور' قرار دیتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ محاذ آرائی کے دوران ایران کی سرکردہ قیادت کے درمیان امریکا اور دوسرے ملکوں‌ کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر جوہری اختلافات موجود رہے ہیں۔

ملک کی طاقت ور شخصیت اور ایرانی انقلاب کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے دو ٹوک الفاظ میں مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایسے مذاکرات جن سے انقلاب کےعزت وقار اور اس کی اقدار کو نقصان پہنچے قبول نہیں‌ کئے جائیں‌ گے۔‘‘ دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ملک کے جوہری اور میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ان سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ اگر امریکا، ایران پر عاید پابندیاں ختم کر دے تو اس کے ساتھ بات چیت ممکن ہے۔

علی خامنہ ای کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق: ’’ہم یہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا سے مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ ان مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہوا ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا: ’’ہم انقلاب کی بنیادی اقدار پر کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔ ہم اپنی فوجی صلاحیتوں پر بھی کوئی بات چیت نہیں کریں گے‘‘۔

ان کے برعکس ایرانی صدر حسن روحانی نے قبل ازیں قدرے مفاہمانہ لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر امریکا ان کے ملک پر عاید پابندیاں ختم کردے تو اس کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں۔‘‘ ان سے دو روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسی قسم کا مفاہمتی بیان دیا تھا کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر ڈیل ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو کہا تھا:’’ مجھے اس بات میں یقین ہے کہ ایران ایک ڈیل کرنا چاہے گا اور میرے خیال میں یہ ان (ایرانیوں ) کے لیے بہتر رہے گی اور اس کا امکان بھی ہے‘‘۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے نشر کیے گئے بیان کے مطابق حسن روحانی نے کہا کہ ’’وہ (امریکی) جب بھی غیر منصفانہ پابندیاں ہٹا دیتے ہیں، اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور مذاکرات کی میز پر لوٹ آتے ہیں، جسے وہ خود ہی چھوڑ کر گئے تھے، تو پھر دروازے بند نہیں ہوئے ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا: ’’ہمارے لوگ آپ کے عملی اقدامات آپ کی جانچ کریں گے، محض زبانی جمع خرچ سے نہیں‘‘۔

ایرانی وزارت ِ خارجہ کے ترجمان عباس موساوی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے ضمن میں کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی۔

جوہری ہتھیار انقلاب کا زیور

آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیان پر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم ملک کے جوہری پروگرام کو بھی' انقلاب کا زیور' قرار دیتی ہے۔ مگر خامنہ ای نے 'جرات مندانہ لچک' کے نام سے جو پالیسی اختیار کی ہے اس کے تحت امریکا اور عالمی طاقتوں‌ کے درمیان سنہ 2013ء میں مذاکرات شروع ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں 2015ء کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کےدرمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

امریکا کے سابق صدر باراک اوباما کی نسبت ڈونلڈ ٹرمپ نےشدت کے ساتھ ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کی مخالفت کی۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایران کا قبلہ درست کرنے کے لیے اس کے سامنے 12 شرائط رکھی ہیں اور ان شرائط کے پورا ہونے کی صورت میں تہران کے ساتھ بات چیت کی ممکن ہے۔

امریکا ان شرائط کے ذریعے ایران کے طرز عمل میں تبدیلی دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو خطے کے ممالک میں مداخلت روکنے، دہشت گردی کی پشت پناہی بند کرنے کے ساتھ اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو بند کرنا ہو گا۔

ایرانی قیادت میں اختلافات

امریکا کے دبائو کے بعد ایرانی قیادت مذاکرات کے حامی اور مخالف کیمپ میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے سپریم لیڈر کے موقف کے برعکس کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہیں تاہم ایران مذاکرات پر ایک ہی شرط پر تیار ہو سکتا ہے کہ امریکا تہران پرعاید کردہ پابندیاں ختم کر دے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر نشر ایک بیان میں روحانی کا کہنا تھا کہ ان کے سامنے بات چیت کے راستے بند نہیں مگر مذاکرات سے پہلے امریکیوں کو ایران پر عاید کردہ سنگین پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔