’’حزب اللہ بیروت ہی نہیں بلکہ نیویارک میں بھی سرگرم عمل ہے‘‘
’فارن پالیسی‘ میگزین نے سمندر پار حزب اللہ کی سرگرمیوں کا پردہ چاک کر دیا
حالیہ چند برسوں کے دوران لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے سرحد پار اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا تو عراق، یمن بالخصوص شام اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ملکوں میں حزب اللہ کی وسیع پیمانے پر سرگرمیاں دیکھی گئیں۔
یہاں تک کہ جنوبی امریکا، ایشیا اور یورپ میں بھی حزب اللہ کی سازشیں ناکام بنائی گئیں۔ امریکی جریدے ’فارن پالیسی‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں امریکا میں بھی حزب اللہ کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا ’’کہ حزب اللہ بیروت ہی میں نہیں بلکہ نیویارک میں بھی موجود ہے۔‘‘
امریکی فارن پالیسی میگزین میں شائع کی گئی ایک طویل رپورٹ مشرق بعید انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ انسداد دہشت گردی اور سراغ رسانی کے ڈائریکٹر ماتھیو لیویت نے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ میں حزب اللہ کی بیرون ملک سرگرمیوں کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں حزب اللہ کی شمالی امریکا میں سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی رپورٹ نہیں جس میں حزب اللہ کی سمندر پار سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہوں بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کی رپورٹس شائع کی جاتی رہی ہیں۔ ان رپورٹس میں حزب اللہ کی بیرون ملک فنڈنگ، منی لانڈرنگ، کاروبار اور لاجسٹک سرگرمیاں پر توجہ مرکوز کی جاتی رہی۔ یہ سرگرمیاں فرانکفرٹ سے میامی تک پھیلی دیکھی جا سکتی ہیں مگر گذشتہ ماہ امریکا کے انسداد جرائم کے شعبے کی جانب سے نیویارک میں حزب اللہ کے ایک سرگرم شدت پسند علی کورانی کی سرگرمیوں کا پتا چلایا گیا۔ علی کورانی کی نیویارک میں موجودگی امریکا اور کینیڈا میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کی ایک نئی شکل ہے۔
سنہ 2017ء کو علی کورانی اور حزب اللہ کے ایک دوسرے ایجنٹ سامر الدبیک کو حراست میں لیا گیا جس کے بعد امریکا کو حزب اللہ کی طرف سے لاحق خطرات کے حوالے سے سابقہ موقف پر نظرثانی کی گئی۔ سابقہ موقف یہ تھا کہ حزب اللہ سے امریکا کو براہ راست خطرہ نہیں مگر جب نیویارک میں حزب اللہ کے ایجنٹوں کا سراغ لگایا گیا تو امریکی انٹیلی جنس اداروں کو اندازہ ہوا کہ ان کا نقطہ نظر درست نہیں تھا۔ اس کے بعد امریکا نے حزب اللہ اور اس کے سرپرست ایران کے خلاف پہلے کی نسبت زیادہ سخت طرز عمل اختیار کیا۔
اکتوبر 2017ء کو کورانی اور دبیک کی گرفتاری کے بعد امریکی قومی مرکز برائے انسداد دہشت گردی نے باور کرایا کہ حزب اللہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے امریکا کے قلب میں داخل ہو چکی ہے۔
علی کورانی کے بارے میں ملنے والی معلومات کے بعد 16 مئی کو امریکی عدالت نے اس کے خلاف دہشت گردی اور دیگر جرائم کی منصوبہ بندی کے الزام میں فرد جرم عاید کی جب کہ دبیک کے خلاف ابھی تک مقدمہ کی کارروائی کا آغاز نہیں ہوا ہے۔
حزب اللہ نے علی کورانی کو بیرون ملک اپنے منصوبوں کے نفاذ کے لیے ایک عنصر کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی اور امریکا میں'IJO' یعنی اسلامی جہاد تنظیم قائم کی گئی۔ اس تنظیم کے ذمہ دیگر کارروائیوں کے ساتھ ساتھ نیویارک میں موجود اسرائیلیوں کی نشاندہی کرنا اور حزب اللہ کے جنگجوئوں کو ان کےبارے میں معلومات فراہم کرنا تھا تاکہ حزب اللہ انہیں نشانہ بنا سکے۔ اس کے علاوہ یہ گروپ ایسے لوگوں تک رسائی کی کوشش کرتا رہا جن کی مدد سے اسلحہ خرید کر جمع کرنے کی کوشش کی گئی۔
علی کورانی نہ صرف امریکا میں رہا بلکہ اس سے قبل حزب اللہ نے اسے چین بھی بھیجا۔ حزب اللہ نے بیرون ملک کارروائیوں کے لیے جدید کیمیائی بم تیار کرنے کی خاطر کیمیائی مواد خرید کیا۔ علی کورانی کو چین کے علاوہ بلغاریا، قبرص اور تھائی لینڈ بھیجا گیا۔
سنہ 2012ء کو بلغاریا کے شہر بورگاس میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں حملہ آور سمیت 7 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے۔ اس بم دھماکے کی جگہ سے وہی کیمیائی مواد ملا جو سنہ 2012ء میں تھائی لینڈ اور 2012ء اور 2015ء میں قبرص میں ناکام بن دھماکوں کی جگہ کے موقع پرملا تھا۔ اسی دوران علی کورانی کو کینیڈا بھی بھیجا گیا۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی اداروں کے تفتیش کاروں کو علی کورانی نے بتایا کہ وہ حزب اللہ کے'خاموش سیل' کا حصہ ہے۔
امریکا کے معاون پراسیکیوٹر جنرل برائے قومی سلامتی کون دیمرز نے بتایا کہ امریکا میں قیام کے دوران علی کورانی نے حزب اللہ کی امریکا میں مستقبل میں ہونے والی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔
اس کی اسکیموں میں امریکی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی عمارتوں کی نگرانی، مین ہٹن میں امریکی سکریسی سروس کے دفتر کی جاسوسی، نیویارک کے جون کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جاسوسی اور امریکی فوج کے اسلحہ کے حوالے سے تفصیلات جمع کرنا شامل تھا۔
علی کورانی حزب اللہ کے ساتھ ہمدردی رکھنے میں شہرت رکھنے والے خاندان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اس نے کم عمری میں حزب للہ کے ایک عسکری تربیتی مرکز سے ٹریننگ حاصل کی مگر اس کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسے بیرون ملک یونٹ کو منظم کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔ بیرون ملک حزب اللہ کی اس یونٹ کوIJO کا نام دیا گیا جب کہ اس کے لیے 910 نامی ایک خفیہ کوڈ بھی رکھا گیا۔ جنوری 2008ء کو IJO کے سابق سربراہ عماد مغنیہ کے قتل سے قبل ہی علی کورانی کو بیرون ملک یونٹ کی ذمہ داری سنبھالنے کا ٹاسک دے دیا گیا تھا۔ عماد مغنیہ کے بیروت میں قاتلانہ حملے میں قتل کے وقت یہ اطلاعات آئی تھیں کہ اس میں اسرائیل ملوث ہے مگر بعد میں پتا چلا کہ یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن کا نتیجہ تھی۔
عماد مغنیہ کے قتل سے قبل ہی حزب اللہ نے اپنے عالمی دہشت گرد نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ علی کورانی کو مناسب مقام اور مناسب وقت پر اہم ذمہ داری سونپی جانا تھی۔
حزب اللہ ملیشیا کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ نے عماد مغنیہ کے جنازے کے موقع پر بیرون ملک کارروائیوں کی علانیہ دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے، وقت اور مقام پرعماد مغنیہ کو قتل کیا گیا ہے میں صہیونیوں سے کہتا ہوں کہ اگر تم اسی طرح کی جنگ چاہتے ہو تو پوری دنیا سن لے کہ ہماری جنگ زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ اس کے کچھ ہی ایام کے بعد علی کورانی نے بیرون ملک IJO کی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔ امریکی تفتیش کاروں کو بیان دیتے ہوئے علی کورانی نے کہا کہ حزب اللہ عماد مغنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کےلیے تمام وسائل استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
کینیڈا میں سرگرمیاں
'ایف بی آئی' کے جلادوں کے سامنے اعترافات کرتے ہوئے کورانی نے خبردار کیا کہ حزب اللہ اور اس کی بیرون ملک سرگرم یونٹ IJO امریکا سے زیادہ کینیڈا میں سرگرم ہے۔ کینیڈا ہی میں IJO کو منظم کرنے کی ایک بڑی ذمہ داری علی کورانی کو دی گئی تھی۔
سنہ 2012ء کو اس نے ایک کینیڈین نژاد لبنانی خاتون کے ساتھ شادی کی۔ کچھ عرصہ بعد دونوں میں جدائی ہو گئی اور خاتون بچوں کے ساتھ الگ ہو گئی مگر اس نے ایف بی آئی کو بتایا کہ اس نے حزب اللہ کی قیادت کے ساتھ بات چیت میں کینیڈا کے کسی خاندان کے ساتھ رشتہ داری روابط کے قیام کا فائدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے کینیڈا میں کسی خاندان کے ساتھ روابط قائم ہو جائیں تو اس کا باقاعدگی کے ساتھ آنا جانا آسان ہو جائے گا اور کسی کو اس کے بارے میں شبہ بھی نہیں ہو گا۔
رابطہ افسر فادی کساب
تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ علی کورانی اور IJO یونٹ کے رابطہ کے ذمہ داری کے درمیان کینیڈا میں مراسلت اور کارکنوں تک معلومات کی رسائی پر بات چیت کی۔ کورانی نے مراسلت کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا تاہم اس نے جاسوسی کی کارروائیوں اور کینیڈا میں اپنے اپنے ایجنٹوں کی مدد سے حزب اللہ تک پیغام رسانی کو قبول کرلیا۔
یونٹ 910 کے تحت کورانی کو مختلف جاسوسی اسالیب کی تربیت فراہم کی گئی تھی۔ ایف بی آئی کی تحقیقات کے دوران کورانی نے بتایا کہ IJO میں رابطوں کی ذمہ داری فادی کساب نامی ایک شخص کو دی گئی تھی اور وہ امریکا اور کینیڈا دونوں ملکوں میں حزب اللہ کے ایجنٹوں کے درمیان رابطے کراتا۔ حالانکہ وہ خود لبنان میں مقیم تھا مگر اس نے سنہ 2012ء میں بلغاریہ میں دھماکے کی نگرانی اور رابطہ کاری کی تھی۔
نیویارک اور بیرسن ہوائی اڈے
علی کورانی کو حزب اللہ کے لیے جاسوسی کے کئی ٹاسک دیئے تھے جن میں نیویارک کے جون کینیڈی ہوائی اڈے اور ٹورنٹو کے بیرسن بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جاسوسی بھی شامل تھی۔ کورانی کی سفری دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ اس نے نیویارک ہوائی اڈے سے 19 بار اور بیرسن ہوائی اڈے سے 7 بار سفر کیا۔ کورانی نے اعتراف کیا کہ اسے حزب اللہ کی طرف سے سیکیورٹی کے لیے خصوصی یونیفارم بھی دیا جسے فوجی استعمال کرتے ہیں۔