.

غزہ میں احتجاجی ریلیوں پر اسرائیلی فائرنگ سے 80 فلسطینی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کر دی جس کے نتیجے میں کم سے کم 80 شہر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں‌ میں طبی عملے کے امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کو غزہ کی مشرقی سرحد پر ناکہ بندی کے خاتمے اور فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے ہونے والے ہفتہ وار مظاہروں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 79 فلسطینی زخمی ہوگئے۔

غزہ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

اشرف القدرہ نے بتایا کہ ایک زخمی شہری کے سینے میں گولی لگی ہے جسے اسپتال منتقل کرد یا گیا ہے تاہم اس کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ جمعہ کے روز ہزاروں فلسطینیوں نے مشرقی سرحد پر حق واپسی اور غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا۔

خیال رہے کہ غزہ کے فلسطینی 30 مارچ 2018ء‌ سے غزہ کی سرحد پر علاقے کی 12 سال سے جاری معاشی ناکہ بندی کے خلاف اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج مسلسل 63 ہفتوں سے جاری ہے۔

قابض صہیونی فوج فلسطینیوں‌ کے احتجاج کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کرتی ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ ایک سال کے دوران اب تک 300 فلسطینی مظاہرین شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔