جامعہ الازھر کی بیت المقدس میں یہودی زائرین کے لیے سرنگ منصوبے کی شدید مذمت

اسرائیل القدس میں مذہبی اشتعال انگیزی کا مرتکب ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر نے بیت المقدس کے اسلامی تشخص کو تبدیل کرنے والے صہیونی اقدامات اور مکروہ حربوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جامعہ الازھر کی طرف سے قدیم بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں‌ کے لیے مذہبی بنیادوں پر'حجاج روڈ' کے نام سے سرنگ کے افتتاح کو آسمانی مذاہب کی کھلی توہین قراردیا ہے۔

عالمی اسلامی درس گاہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ القدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے'سرنگ' کی کھودائی کا منصوبہ بین الاقوامی قوانین، مذہبی اصولوں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ القدس میں مسلمانوں اور مسیحی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے مذہبی حقوق کی حمایت کرے اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں‌ پوری کرے۔

جامعہ الازھر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل کو فلسطینیوں کے حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تل ابیب پر دبائو ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔ اسرائیلی ریاست کی طرف سے القدس کو یہودی رنگ میں رنگنے اور فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندانہ سرگرمیوں کی وجہ سے آزاد فلسطینی ریاست کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جامعہ الازھر آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس شریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کی کوششوں حمایت جاری رکھے گی۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی حکام نے جنوب مشرقی بیت المقدس میں سلوان ٹائون کے نیچے شہر کی پرانی تاریخی دیواروں کے ساتھ ایک سرنگ کی کھودائی کا افتتاح کیا ہے۔ یہ سرنگ یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول تک رسائی کا نیا موقع راستہ فراہم کرے گی۔

فلسطینی ایوان صدر نے القدس میں یہودیوں کو مذہبی رسومات کی سہولت کے لیے سرنگ کی کھدائی کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج پر خبردار کیا ہے۔ اسرائیل کی اس مذہبی اشتعال انگیزی پر مبنی پیش رفت کےحوالے سے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے اسلامی تعاون تنظیم' او آئی سی' سیکرٹریٹ سے بھی رابطہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں