.

کربلا میں ایرانی قونصلیٹ پر سیاحتی سرگرمیوں میں بے جا مداخلت کا الزام

ایرانی قونصل جنرل کی مداخلت سے تنگ کمپنیوں‌ کا قونصل خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے تاریخی شہر کربلاء میں سیاحتی شعبے میں سرگرم کمپنیوں‌ کی طرف سے شہر میں ایرانی قونصل جنرل کی بے جا مداخلت کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے۔

گذشتہ روز کربلاء میں قائم ایرانی قونصل خانے کے باہر سیاحتی کمپنی مالکان اور ان کے ملازمین نے احتاجی مظاہرہ کیا۔ عراق میں سیاحتی شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں‌ کا کہنا ہے کہ ان کی فرموں پر طرح طرح کی پابندیاں عاید کی جا رہی ہیں۔ بعض سیاحتی کمپنیوں کو بھاری جرمانے کیے گئے ہیں اور بعض کو کام سے روک دیا گیا ہے۔

ایک مقامی سیاحتی کمپنی 'سفر و سیاحت' کے مالک احمد الجنابی نے بتایا کہ ایرانی قونصل جنرل نے ایرانی سیاحتی کمپنی 'سامان' کے ذریعے دوسری فرموں‌ پر ٹیکس عاید کیا ہے۔ کسی ایرانی کمپنی کی طرف سے ایسا کرنا خلاف قانون اور دونوں‌ ملکوں‌ کے درمیان طے پائے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ ایرانی قونصل جنرل آغا شیخی ایرانی سیاحتی کمپنیوں کے 'پروموٹر' بن گئے ہیں۔

سیاحتی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ایرانی قونصل جنرل آغا شیخی کربلا میں سیاحتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وہ صرف من پسند سیاحتی کمپنیوں کی ترویج کی کوشش کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ آغا شیخی سیاحتی امور میں کھلے عام مداخلت کرتے ہیں۔ وہ ایرانی سیاحتی کمپنی کو یومیہ 250 سیاحتی ویزے جاری کرتے ہیں۔ صرف ہفتے کے روز سیاحت اور علاج کے لیے سامان کمپنی کو 3000 ویزے جاری کیے گئے۔

احمد الجنابی نے کہا کہ کربلا میں ایرانی قونصلیٹ دیگر کمپنیوں کو رات ایک بجے کے وقت ویزے جاری کرتا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ رات ایک بجے ویزے جاری کرنے کا کونسا وقت ہے۔

ایک دوسری سیاحتی کمپنی کے مالک نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر'العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ' کو بتایا کہ ایرانی قونصل جنرل کی طرف سے سیاحتی کمپنیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ دھمکیاں کمپنیوں کی طرف سے ایرانی قونصل جنرل کی بے جا مداخلت کے خلاف احتجاج اور شکایات کے بعد دی گئی ہیں۔

انہوں‌ نے بتایا کہ ایرانی قونصل جنرل نے 8 عراقی سیاحتی کممپنیوں کو ایرانی زائرین کو مذہبی مقامات پر لانے سے محروم کر دیا ہے۔ قونصل جنرل صرف ایرانی سیاحتی کمپنی کو ویزے جاری کر رہی ہے تاکہ سیاحت کے شعبے میں جمع ہونے والا ریونیو براہ راست ایران تک پہنچ سکے۔