.

یمن:عدن میں حوثیوں کے دہرے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 49 ہوگئی،48 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز جنوبی شہر عدن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی شدت پسندوں کےدو حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 49 ہوگئی ہے جب کہ 48 زخمی ہوئے ہیں۔

العربیہ کےنامہ نگار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کو پہلا دھماکا عدن شہر کے مضافاتی علاقے عمر المختار میں گولہ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ایک پولیس مرکز پر کیا گیا۔ اس حملےمیں 13 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ دوسرے واقعے میں ایک ملٹری کیمپ میں عسکری پریڈ کو میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں سپورٹ فورسز کے کمانڈر میجر جنرل منیر الیافعی سمیت 36 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایران نواز حوثی ملیشیا نے اپنے زیر انتظام چینل "المسيرہ" ٹی وی پر بتایا ہے کہ اس نے الجلاء کیمپ میں عسکری پریڈ کو ڈرون طیارے اور درمیانی مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق پولیس مرکز پر دھماکے کے نتیجے میں متعدد پولیس اہل کار جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دھماکے میں پولیس مرکز کے اطراف واقع گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

یمنی حکومت کے ترجمان راجح بادی نے ایک بیان میں دہشت گردی نے دونوں واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی انہوں‌نے کہا کہ عدن میں دہشت گردی کے واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ حوثی باغی اور دوسرے دہشت گرد گروپ باری باری یمنی لوگوں کا خون بہا رہےہیں۔ انہوں‌نے کہا کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ڈرون طیارے اور بیلسٹک میزائل جیسے تباہ کن ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں۔ یہ ہتھیار انہیں بیرون ملک سے ان سرپرستوں کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔