.

امریکا کھلے سمندروں میں آئیل ٹینکرگریس اوّل کو پکڑنے سے باز رہے: ایران

ایران برطانوی تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کے لیے عدالتی حکم کا منتظر ہے: ترجمان وزارتِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں (کھلے سمندروں) میں اس کے تیل بردار بحری جہاز کو پکڑنے سے باز رہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے سوموار کو ایک نیوزکانفرنس میں اپنے تیل بردار بحری جہاز گریس اوّل کے جبل الطارق (جبرالٹر) سے روانہ ہونے کے بعد یہ انتباہ جاری کیا ہے۔جہازرانی کے ڈیٹا کے مطابق ایرانی جہاز یونان کی جانب جارہا تھا۔برطانوی خود مختار علاقے جبل الطارق کے حکام نے امریکا کی درخواست پر اس آئیل ٹینکر کو مزید تحویل میں رکھنے سے انکار کردیا تھا۔

عباس موسوی نے مزید کہا کہ ایران برطانیہ کے ایک تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کے لیے عدالتی حکم کا منتظر ہے۔ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے کوئی ڈیڑھ ماہ قبل برطانیہ کے پرچم بردار اس تیل بردار جہاز کو آبنائے ہُرمز کے نزدیک پکڑ لیا تھا اور تب سے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا تیل بردار جہاز کے جبل الطارق سے روانہ ہونے کے بعد امریکا دوبارہ اس کو پکڑنے کی درخواست کرسکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’’اس طرح کی کسی کارروائی سے بین الاقوامی پانیوں اور کھلے سمندروں میں جہاز رانی خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔اس ضمن میں ہم نے سرکاری چینلز بالخصوص سوئس سفارت خانے کے ذریعے باضابطہ طور پر انتباہ جاری کردیا ہے۔‘‘

ایرانی دارالحکومت تہران میں سوئٹزر لینڈ کا سفارت خانہ ہی امریکا کے مفادات کی نمایندگی کرتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اس کے ذریعے ہی بالواسطہ مراسلت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے محکمہ انصاف نے ایران کے تیل بردار سپر ٹینکر گریس اوّل کی ضبطی کے لیے دو روز قبل وارنٹ جاری کیے تھے۔اس نے یہ اعلان جبل الطارق کے ایک جج فیصلے کے بعد کیا تھا جس میں انھوں نے تحویل میں لیے گئے ایرانی ٹینکر کو چھوڑنے کی اجازت دے دی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کے وارنٹ میں کہا گیا کہ اس ایرانی جہاز ، اس پر لدے تیل اور995,000 ڈالر کی رقم کو بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات ایکٹ ( آئی ای ای پی اے) کی خلاف ورزی کی پاداش میں ضبط کر لیا جائے۔اس نے بنک فراڈ ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

اس نے الزام عاید کیا کہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے شام کو ایرانی تیل بھیجنے کے لیے غیر قانونی طور پر امریکا کے مالیاتی نظام تک رسائی کی کوشش کی تھی۔واضح رہے کہ امریکا نے سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی دستاویز کے مطابق ’’اس اسکیم میں سپاہِ پاسداران انقلاب سے وابستہ کئی ایک پارٹیاں ملوّث ہیں۔نیز گریس اوّل نے فریب دینے کے لیے ایک طویل سمندری سفر اختیار کیا تھا۔پاسداران کی ہراول ( فرنٹ) کمپنیوں نے اس طرح تیل اور مال بردار جہازوں کے لیے مبیّنہ طور پر کروڑوں ڈالر کی رقم کو ’’مصفا‘‘ (لانڈر) کیا ہے۔‘‘

تاہم اس وارنٹ کے مطابق ’’یہ ایک محض الزام ہے اور کسی جرم کے مرتکب مجرم مدعاعلیہ کو اس وقت تک بے گناہ ہی تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ قصور وار ثابت نہ ہوجائے اور ایسے مقدمات میں قصور وار فریق کے خلاف ثبوت فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔‘‘