ترک صدر امریکی 'ایف 35' طیاروں سے مایوس، متبادل تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی دوسرے ملک سے جنگی طیارے خرید کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے 'ایف 35' طیارے نہ دیئے تو روس کے 'SU-35 اور 'SU-57' طیارے خریدنے کے لیے ماسکو سے بات کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ستمبر میں جنرل اسمبلی میں نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ اگر امریکا نے 'ایف 35' طیاروں کے حوالے سے موجودہ موقف تبدیل نہ کیا تو ترکی کسی دوسرے ملک سے طیاروں کی ڈیل کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی طیارے 'SU-35' اور 'SU-57' کے بارے میں ماسکو کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔ ہم اپنے دفاع اور دفاعی صنعت کی ضرورت کےلیے ہر ملک سے بات کریں گے۔

خیال رہے کہ جولائی میں امریکا نے اس وقت ترکی کو 'ایف 35' جنگی طیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ترکی نے روس کا دفاعی نظام 'ایس 400' خرید کیا تھا۔

امریکا نے زیر تربیت ترک ہوابازوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ واشنگٹن نے ترکی کے ساتھ 'ایف 35' طیاروں کی ڈیل منسوخ کرتے ہوئے ترکی کو اس پروگرام سے الگ کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں