ایران’خلیج میں قیام امن کا منصوبہ‘ جلد یو این میں پیش کرے گا
ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ان کا قیام امن کے لئے علاقائی تعاون کا ایک منصوبہ اقوام متحدہ میں پیش کرے گا۔
امریکا کی جانب سے خطے میں مزید فوجی کمک ارسال کرنے کے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ خلیج میں غیر ملکی فوج کی موجودگی سے ’’عدم تحفظ‘‘ کا احساس پیدا ہوتا ہے
سالانہ فوجی پریڈ کے موقع پر ایک نشری تقریر میں صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ’’غیر ملکی فوج ہمارے عوام اور خطے میں عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے۔‘‘
چودہ ستمبر کو سعودی تیل کی تنصیبات پر تباہ کن حملوں کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن اور ریاض تیل تنصیبات پر حملوں کا الزام تہران پر عائد کرتے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔
ان حملوں کے بعد جمعہ کے روز امریکا نے اعلان کیا کہ وہ ’مملکت [سعودی عرب] کی درخواست پر علاقے میں اپنی مزید فوجی کمک ارسال کر رہا ہے۔
اتوار کے روز اپنے خطاب میں حسن روحانی نے خلیج میں موجود غیر ملکی فوج پر زور دیتے ہوئے انہیں ایران مفادات سے ’دور رہنے‘ کا مشورہ دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر وہ [غیرملکی فوج] مخلص ہیں تو وہ علاقے کو ہتھیاروں کی دوڑ کا مرکز بنانے سے گریز کریں۔ خطے میں آپ کی موجودگی ہمیشہ تکلیف اور آلام کا باعث بنی ہے۔ آپ ہمارے علاقے سے جتنا دور رہیں گے، اتنا ہی یہاں امن کا دور دورہ ہو گا۔
حسن روحانی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران اقوام متحدہ میں قیام امن کا ایک منصوبہ پیش کرنے جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس حساس اور تاریخی لمحے پر ہم اپنے ہمسایوں کی جانب دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔‘‘