عراقی حکومت اور سیکیورٹی ادارے مظاہرین کا خون بہانے کے ذمہ دار ہیں: السیستانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق کے ایک سرکردہ شیعہ مذہبی رہ نما آیت اللہ علی السیستانی نے جمعہ کے روز مظاہرین اور صحافیوں پر عراقی سیکیورٹی فورسز کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو مظاہرین کی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا۔

یکم اکتوبر کے بعد سے عراق میں بڑے پیمانے پر ملک گیر مظاہرے ہوئے ہیں۔ بغداد اور جنوبی عراق میں سرکاری سطح پر تشدد کے واقعات میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک اور 6000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

کربلا میں خطبہ جمعہ میں السیستانی کے نمائندے شیخ عبد المہدی کربلائی نے گذشتہ ہفتے عراق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران "پر امن مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکاروں پر حملوں" کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں اور نجی املاک کو نذرآتش اور تباہ کرنے کے واقعات ناقابل معافی ہیں۔

آیت اللہ علی السیستانی نے کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران جو کچھ ہوا وہ غیر معمولی ہے۔ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر حملوں کے واقعات ظالمانہ ہیں۔ ان واقعات کی شدید مذمت کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مظاہرین پر گولی نہیں چلائے گی مگر اس کے باوجود بغداد، ناصریہ ، دیوانیہ اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے خوفناک مظاہرے اور مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک ایسا ظلم تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ عراق میں رواں ماہ کے اوائل سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے دوران فوج اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک سو سے زاید افراد ہلاک اور چھ ہزار زخمی ہوگئے تھے۔ عراقی حکومت ان مظاہروں کو بیرونی طاقتوں کی سازش قرار دیتی ہے جب کہ عراقی قیادت اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جائز معاشی حقوق کے حصول اور حکومت کی طرف سے کیے گئے وعدوں پرعمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں