عراق: بغداد میں عام ہڑتال، کربلا میں 3 مظاہرین ہلاک
عراقی دارالحکومت بغداد میں مظاہرین آج پیر کے روز سے غیر معینہ مدت کے لیے عام ہڑتال کی رہ دیکھ رہے ہیں۔ اس کا مقصد مطالبات پورے کرانے کے لیے حکام پر دباؤ ڈالنا ہے۔
دوسری جانب عراق میں انسانی حقوق کے ہائر کمیشن کے اعلان کے مطابق اتوار کے روز کربلا میں فائرنگ سے 3 مظاہرین ہلاک ہو گئے جب کہ جھڑپوں میں احتجاج کنندگان اور سیکورٹی فورسز کے 12 افراد زخمی ہو گئے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ تینوں مظاہرین ایرانی قونصل خانے کے سامنے مارے گئے۔
کمیشن نے سیکورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محفوظ تصادم کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے براہ راست فائرنگ سے گریز کرے۔ ساتھ ہی زور دیا گیا ہے کہ مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے والے افراد کو تحقیقات کے لیے پیش کیا جائے۔
فيديو .. متظاهرون عراقيون يصعدون فوق جدار القنصلية الإيرانية ويرفعون العلم العراقي#العراق_ينتفض pic.twitter.com/SRFvOfYHT9
— العربية (@AlArabiya) November 3, 2019
کمیشن نے عراقی مظاہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احتجاج کے لیے مختص مقامات تک محدود رہیں اور سفارتی عمارتوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
ادھر عراقی مسلح افواج کی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ الجمہوریہ پُل پر آتش زدگی اور تباہی کے نتیجے میں یہ پُل گر سکتا ہے۔
العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے کربلا میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کو حفاظتی گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس سے قبل اُن احتجاج کنندگان کو منتشر کر دیا گیا جو اتوار کی شب قونصل خانے کے اطراف ہنگامہ آرائی میں مصروف تھے۔
اتوار کے روز ایک ہزار سے زیادہ مظاہرین کربلا میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کے سامنے پہنچ گئے۔ مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے کی دیوار پر عراقی پرچم لہرا دیا۔ عراقی عوام کا مشتعل ہجوم اپنے ملک کے معاملات میں تہران کی مداخلتوں پر غصے میں بپھرا ہوا تھا۔