خامنہ ای نے پٹرول کی قیمتوں میں تین گُنا اضافے کی تائید کر دی
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی تقسیم محدود کرنے کے فیصلے کی تائید کی ہے۔
حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اس اچانک فیصلے کے نتیجے میں ایران کے کئی شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے۔
اتوار کے روز ایران کے سرکاری ٹی وی نے بتایا ہے کہ خامنہ ای نے اس حکومتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "میں کوئی ماہر نہیں اور اس حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں مگر میں واضح کر چکا ہوں کہ اگر ریاست کی تینوں شاخوں کی قیادت کوئی فیصلہ کرے گی تو میں اس کی حمایت کروں گا"۔
جمعے کے روز پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان اقتصادی رابطہ کاری کی سپریم کونسل نے کیا۔ یہ کونسل صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ پر مشتمل ہے۔
خامنہ ای کے مطابق اس فیصلے پر یقینا بعض لوگوں کو تشویش محسوس ہو رہی ہے مگر تخریب کاری اور آگ لگانے کی کارروائیاں عوام نہیں بلکہ بلوائی کر رہے ہیں۔ ایران اور اس کے انقلاب کے دشمن ہمیشہ تخریب کاری اور قانون کی خلاف ورزی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
ایران میں ہفتے کی شام عوامی احتجاج زور پکڑ گیا۔ اس دوران مشتعل افراد نے تہران کے مشال مغرب میں واقع شہر کرج میں ایک بینک اور باسیج فورس کے مرکز کو آگ لگا دی۔
باخبر ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہی ایندھن کی قیمتوں میں 3 گنا اضافے کے احکامات دیے۔ اس کے نتیجے میں ملک شدید نوعیت کے احتجاج کی لپیٹ میں آ گیا۔ اصلاح پسندوں کی قریبی ایک ویب سائٹ کے مطابق خامنہ ای رواں سال مارچ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خواہاں تھے۔
ادھر ایرانی وزیر داخلہ نے اپنے آخری بیان میں مظاہرین کو سیکورٹی فورسز کے حرکت میں لانے کی دھمکی دی ہے۔ اُن کا اشارہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی جانب تھا۔
ہفتے کی شب ایران کے صوبے کردستان میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے 5 مظاہرین ہلاک ہو گئے۔ اس طرح ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جاری مظاہروں میں اب تک 25 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنان نے کئی وڈیو کلپس جاری کیے ہیں جن میں مظاہرین آگ لگاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں کے ساتھ جھڑپوں اور تصادم کی وڈیوز اور تصاویر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔
ایران کے کئی شہروں میں احتجاج کے دوران نمایاں ترین واقعہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تصاویر کو نذر آتش کرنا تھا۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کا جواب دیتے ہوئے جمعے کے روز کہا کہ "یہ اقدام عوام کے اور معاشرے کے غریب طبقے کے مفاد میں کیا گیا"۔