روس S-400 میزائل سسٹم کی فروخت کے لیے ترکی کے ساتھ نیا معاہدہ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی خبر رساں ایجنسی RIA Novosti نے ریاست کی ملکیت ہتھیار برآمد کرنے والی کمپنی Rosoboronexport کے سربراہ الیگزینڈر میخیو کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس ،،، ترکی کو S-400 دفاعی میزائل سسٹم فراہم کرنے کے لیے ایک نیا معاہدہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ میخیو نے امید ظاہر کی کہ معاہدے پر 2020 کی پہلی شش ماہی کے دوران دستخط ہوں گے۔

امریکا کی جانب سے پابندیوں کے حوالے سے بارہا خبردار کیے جانے کے باوجود ترکی نے پیر کے روز مذکورہ روسی دفاعی میزائل سسٹم کا تجربہ کرنے کا آغاز کر دیا۔ اس دوران انقرہ صوبے میں مرتد فضائی اڈے کے اوپر F-16 لڑاکا طیاروں کا فضائی گشت جاری رہا۔

یاد رہے کہ رواں سال جولائی میں ترکی جانب سے S-400 سسٹم کی خریداری پر نیٹو اتحاد میں انقرہ کے حلیف ممالک نے بڑے پیمانے پر ناراضی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

امریکا نے اپنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ روسی نظام کو مغربی ساز و سامان مثلا F-35 لڑاکا طیاروں کے ساتھ استعمال کرنے کی صورت میں ٹکنالوجی سے متعلق حساس معلومات ہیک ہو سکتی ہیں۔

ترکی نے سو F-35 طیاروں کا آرڈر دیا تھا اور اس کی دفاعی صنعت نے اس طیارے کو جدید بنانے کے منصوبے میں امریکا کے ساتھ مل کر خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی۔ تاہم روس سے S-400 سسٹم کی خریداری کے سبب ترکی کو اس طیارے کے پروگرام سے بے دخل کر دیا گیا۔

روسی میزائل سسٹم کی خریداری پر ابھی تک امریکا نے ترکی پر پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔ بعض ذمے داران کا کہنا ہے کہ انقرہ اس سسٹم کو استعمال میں نہ لا کر واشنگٹن کی پابندیوں سے بچ سکتا ہے۔

ادھر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن رواں ماہ کے دوران یہ باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کی خریداری کی خاطر روسی S-400 دفاعی میزائل سسٹم سے ہر گز دست بردار نہیں ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں