آرامکو تنصیبات پرحملوں کا حکم خامنہ ای نے دیا تھا: رائیٹرز کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی زیر قیادت ایرانی سازش کی نئی تفصیلات کا پردہ چاک کیا ہے۔

نیوز ایجنسی نے بتایا ڈرون طیاروں کے ذریعہ سعودی عرب کی ملکیتی آرامکو میں تیل کی تنصیبات پر حملے سے چار ماہ قبل ایرانی سیکیورٹی اہلکار تہران کے سخت سیکیورٹی والے آڈیٹوریم میں جمع ہوئے۔ ان میں پاسداران انقلاب کے سینیر کمانڈر بھی شامل تھے۔ ان میں وہ عہدیدار بھی شامل تھے جو میزائلوں کے اپ گریڈ کرنے اور خفیہ آپریشن کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔

مئی کے مہینے میں ہونے والے اس اجلاس کا اصل ایجنڈا یہ تھا کہ امریکا کو تاریخی جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کی طرف لوٹنے کے جرم کی سزا کیسے دی جائے؟ کیونکہ یہ دو ایسے اقدامات تھے جنہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی کی موجودگی میں ہونے والے اجلاس میں ملک کی سینیر عسکری کمان موجود تھی۔

نیوز ایجنسی نے چار مختلف ذرائع کے حوالے سے ایرانی سپریم لیڈر کا بیان نقل کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی تلواریں دکھائیں اور انہیں سبق سکھائیں۔" اس موقع پر ایرانی لیڈروں نے امریکی فوجی اڈوں سمیت اعلی اہمیت والے اہداف پر حملہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تاہم اس اجلاس اس پہلو پرغور کیا گیا کہ ایران ایران کے خلاف کوئی ایسا اقدام کرے سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی امریکا کو منہ توڑ جواب بھی مل جائے اور اس کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی بھی نی ہو۔ اور نہ امریکا کا سخت جوابی رد عمل ایران کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تجویز پر اس کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے چار دوسرے اجلاسوں میں بھی غور کیا گیا۔

سعودی وزارت دفاع کی طرف سے دکھائی جانے والی تصاویر میں آرامکو حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا ثبوت موجود ہے۔

رپورٹ میں تین ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں تیل کی تینصیبات پر حملوں کے لیے منصوبہ ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے تیار کیا گیا اور اس پرعمل درآمد کی منظوری سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی رہ نما علی خامنہ ای نے اس شرط پر اس آپریشن پر اتفاق کیا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی شہری یا امریکی کو زخمی کرنے سے گریز کرے گی۔

رائیٹرز ایرانی قیادت کی جانب سے ان واقعات کی تصدیق نہیں کی گئی کیونکہ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کے ترجمان علی رضا میر یوسفی نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ایران حملوں میں ایران ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے حملوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس طرح کے آپریشن پر تبادلہ خیال کے لیے سینیر سیکیورٹی حکام کی میٹنگ نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی خامنہ ای نے کسی بھی حملے کا اختیار نہیں دیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدیدار نے رائیٹرز کے انکشافات پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ تہران کے طرز عمل اور اس کی دہائیوں سے تباہ کن حملوں اور دہشت گردی کی حمایت کرنے کی تاریخ اسی وجہ سے ہے کہ اس کی معیشت تباہی کی لپیٹ میں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر "جنگ کی کارروائی" کرنے کا الزام عائد کیا۔ تہران پر امریکی اضافی پابندیاں عائد کردی گئیں۔ امریکی حکام نے رائیٹرز کو یہ بھی بتایا کہ امریکا نے ایران پر سائبر حملے کیے تھے۔

ایران کے فیصلہ سازی کے عمل سے واقف اس عہدے دار نے بتایا کہ ایرانی فوجی کمانڈروں نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ کئی م مہینے قبل تیارکیا تھا۔

عہدیدار نے بتایا کہ کم سے کم پانچ اجلاسوں میں اس پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ستمبر تک حتمی منظوری جاری کردی گئی۔

تین اہلکاروں نے رائیٹرز کو بتایا کہ یہ ملاقاتیں جنوبی تہران میں ایک کمپلیکس کے اندر ایک محفوظ مقام پر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر خامنہ ای نے ان اجلاسوسں میں سے ایک میں شرکت کی تھی۔

ان تینوں عہدیداروں نے بتایا کہ اجلاسوں میں شرکت کرنے والوں میں خامنہ ای کے اعلی فوجی مشیر یحیی رحیم صفوی اور پاسداران انقلاب کے غیر ملکی اور خفیہ فوجی آپریشنوں کے سربراہ قاسم سلیمانی کے نائب بھی شامل ہیں۔

فیصلے کے عمل سے واقف عہدیدار نے بتایا کہ ابتدائی طور پر جن ممکنہ ہدف پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں سے ایک سعودی عرب کی ایک بندرگاہ کو نشنانہ بنانا بھی تھا۔

ان چاروں عہدیداروں نے کہا کہ ان خیالات کو حتمی طور پر بھاری جانی نقصان کے خدشے کی وجہ سے مسترد کردیا گیا جو امریکا کی طرف سے سخت ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔

اس فیصلے سے واقف عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی حکام نے سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملہ کرنے کے منصوبے پراتفاق کیا کیونکہ اس سے اخبارات کے لیے سرخیاں بن سکتی تھیں اور ایک دشمن کو معاشی نقصان ہو سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی طرف سے واشنگٹن کو ایک سخت پیغام بھیجا جاسکتا تھا۔

عہدیدار نے کہا کہ آرمکو تنصیبات پرحملوں کے بارے میں اتفاق رائے طے پایا اور کہا گیا کہ ایران یہ پیغام دے گا کہ وہ خطے کی کسی بھی حریف طاقت کے اندر گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ذرائع نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا آرمکوتنصیبات پرحملوں کا فیصلہ ہوائی فائر نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ ان تنصیبات کے بارے میں ایران کے پاس مکمل معلومات تھیں اور وہ صرف سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر پر انحصار نہیں کررہا تھا۔

اس نے کہا کہ ڈرون اور میزائل ایرانی اڈے سے ایرانی علاقے سے آئے تھے۔

مشرقی وسطی کے ایک ذرائع نے حملے کی تحقیقات کرنے والی ریاست کو بریف کیا ہے کہ حملے کی جگہ جنوب مغربی ایران میں اہواز ائیربیس تھا۔ تین امریکی عہدیداروں اور دو دیگر افراد نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے فیصلہ ساز حلقوں کے قریبی اہلکار کے مطابق پاسداران انقلاب کے لیڈروں نے حملے کے کامیاب اوقات کار کے بارے میں سپریم لیڈر کو آگاہ کیا۔

رائیٹرز سے بات کرنے والے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں تہران خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں