عراقی فورسز نے بغداد اور نجف میں پھر مظاہرین پر فائرنگ کردی،2 ہلاک ،26 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے استعفے کے باوجود تشدد کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور سکیورٹی فورسز نے بغداد اور جنوبی شہر نجف میں ہفتے کے روز فائرنگ کر کے مزید دو مظاہرین کو ہلاک کردیا ہے۔

عراقی حکام کے مطابق بغداد میں احرار پُل کے نزدیک سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی ہے اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس سے گیارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مظاہرین نے پُل کو عبورکرنے کے لیے وہاں کھڑی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ وہ قلعہ نما گرین زون کی جانب جانا چاہتے تھے جہاں بیشتر سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے ہیں۔

ادھر جنوبی شہر نجف میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی ہے جس سے دو افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے۔نجف میں گذشتہ بدھ کو مشتعل مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے کو نذر آتش کردیا تھا۔اس کے بعد ناصریہ میں سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔ان مہلوکین کا آج ہفتے سے تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔

دریں اثناء عراق کے نیم سرکاری انسانی حقوق کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوّث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور وہ ان کے خلاف شواہد جمع کرے گا۔

بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے عراق میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے بیان میں کہا ہے کہ ’’آتشیں ہتھیاروں اور براہ راست گولیوں کو آخری حربے کے طور پر چلایا جانا چاہیے۔‘‘

دریں اثناء عراقی کابینہ نے اپنے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم عادل عبدالمہدی اور اہم عملہ کے استعفوں کی منظوری دے دی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم استعفے کے موثرالعمل ہونے کے لیے پارلیمان سے اس کی منظوری ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں