حوثی باغیوں کی طرف سے جامعہ صنعاء کے اساتذہ اور طلباء کی جاسوسی کا انکشاف
یمن کے دارالحکومت صنعاء سے ایک باوثوق ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی جامعہ صنعاء کے اساتذہ اور طلباء کی جاسوسی کرتے ہیں۔
عرب اخبار'الشرق الاوسط' کی رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے جامعہ صنعاء کے عملے، اساتذہ اور طلباء کی جاسوسی کےلیے ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے۔ یہ جاسوسی گروپ حوثیوں کی قائم کردہ ڈیفنس انٹیلی جنس فورسز کو ہر ہفتے رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں صنعاء یونیورسٹی کے ملازمین، اساتذہ، طلباء اور دیگر افراد کے رحجانات اور سرگرمیوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ حوثی ملیشیا نے صنعاء یونیورسٹی سمیت ملک کی بعض دوسری جامعات اور تعلیمی اداروں میں جاسوسی کے مذموم مقصد کے لیے طلباء فورم قائم کیے ہیں۔ یہ نام نہاد فورم اساتذہ ، طلباء اور انتظامی عملے کی ٹوہ میں لگے رہتا ہے اوران کی سرگرمیوں اور میلانات پر نظر رکھتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حوثی فورم اور اپنی سرگرمیوں کے ذریعے خفیہ ،مشکوک اور خطرناک خفیہ انٹلی جنس سروس کویونیورسٹی میں ہونےوالی سرگرمیوں کے میں خبر دیتی اور درسگاہوں میں فرقہ واریت کے فروغ میں پیش پیش ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر یہ گروپ طلباء کے مفادات کے دفاع کی آڑ میں کام کرتا ہے مگر در پردہ وہ طلباء اور اساتذہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور ان کے بارے میں حوثی انٹیلی جنس کو معلومات فراہم کرتا ہے۔
الشرق الاوسط کے مطابق حوثی ملیشیا کے جبر وتشدد کے خوف سے جامعات کاعملہ بھی اپنی زبان بند رکھتا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے ان کے اغواء، تشدد اور جان سے مار دینے تک کےخطرات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جامعات کے اساتذہ اور طلباء بہت محتاط رہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے زیرتسلط شہروں میں قائم تعلیمی ادارے باغیوں کی سرگرمیوں کے گھڑ بن چکے ہیں۔