.

لبنان :سمیرخطیب وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار، سعدالحریری کے نام پرپھراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی کاروباری شخصیت سمیر خطیب نے وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ انھوں نے اتوار کے روز بیروت میں نگران وزیراعظم سعدالحریری سے ملاقات کی ہے اور انھیں اپنے فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔

سمیرخطیب نے قبل ازیں آج لبنان کے سنی مفتیِ اعظم شیخ عبداللطیف دریان سے ملاقات کی۔اس کے بعد انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعدالحریری ہی کو نئی حکومت میں وزیراعظم نامزد کرنے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔اس لیے وہی نئی حکومت کے سربراہ ہوں گے۔

لبنان میں 17 اکتوبر سے ہزاروں شہری حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں، پست معیار زندگی،بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ ارباب اقتدار کو ملک کے معاشی مسائل کا ذمے دار گردان رہے ہیں۔

ان ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیراعظم سعدالحریری 29اکتوبر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔انھوں نے سبکدوش ہوتے وقت کہا تھا کہ’’عہدے تو آنی جانی چیز ہیں لیکن ملک کی سالمیت اور وقار کا تحفظ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

ان کے زیر قیادت جماعت مستقبل تحریک نے کاروباری شخصیت سمیرخطیب کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اورانھیں تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد سوموار کو باضابطہ طور پر وزیراعظم نامزد کیا جانے والا تھا۔

لبنان کی دو شیعہ جماعتوں حزب اللہ اور امل نے بھی سمیر خطیب کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔واضح رہے کہ لبنان میں فرقہ وار بنیاد پرمروج نظام حکومت میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنی مسلمان کے لیے مختص ہے اور اس عہدے کے لیے کسی سنی ہی کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔پارلیمان کا اسپیکر اہل تشیع سے ہوتا ہے اور صدر کا تعلق عیسائی مذہب سے ہوتا ہے۔

لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے ایک روز قبل ہی ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ سمیر خطیب کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کریں گے۔انھوں نے اخبار الجمہوریہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ابتدا میں تو وزیراعظم سعد الحریری یا ان کے حمایت یافتہ کسی شخص کو نئی حکومت کی قیادت کے لیے نامزد کرنے والا تھا۔اب وہ انجنئیر سمیر خطیب کی حمایت کررہے ہیں اور میں بھی ان ہی کو نامزد کروں گا۔‘‘

یادرہے کہ سعدالحریری پہلی مرتبہ 2005ء میں بھاری ووٹوں سے پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے اپنے والد اور تب وزیراعظم رفیق الحریری کے بیروت میں ایک کاربم دھماکے میں قتل کے بعد یہ الیکشن لڑا تھا۔انھوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مستقبل تحریک پارٹی کی قیادت سنبھال لی تھی اور انھیں جون 2009ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔2011ء میں ان کی مخلوط حکومت ختم ہوگئی تھی اور وہ بھی وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہوگئے تھے لیکن دسمبر 2016ء میں انھیں دوبارہ وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔

سعد الحریری سعودی عرب میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے اپنے والد کا ورثے میں ملنے والا ٹیلی کام کا کاروبار سنبھالا تھا۔اس کے علاوہ بھی ان کے مختلف کاروبار ہیں۔فوربس میگزین کی 2013ء کی ایک رپورٹ کے مطابق تب ان کے اثاثوں کی مالیت ایک ارب90 کروڑ ڈالر تھی۔