.

ایران کی سرپرستی میں سرگرم ملیشیا کے خلاف ہاتھ باندھ کر نہیں بیٹھیں گے : واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں ایران نواز حزب اللہ تنظیم کے اڈوں پر ضربیں کامیاب رہیں اور اگر "ضرورت پڑی "تو مزید اقدامات خارج از امکان نہیں۔

مارک ایسپر نے یہ بات عراق کے مغرب اور شام کے مشرق میں حزب اللہ سے متعلق 5 اہداف کو امریکی F-15 طیاروں سے حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دفاع کے لیے اور ایران کو دشمنانہ کارروائیوں کے ارتکاب سے روکنے کے واسطے کام کرتے رہیں گے۔

مارک ایسپر نے واضح کیا کہ جن اہداف کا چُناؤ کیا گیا ان حزب اللہ کی کمان اینڈ کنٹرول کی تنصیبات اور ہتھیاروں کے گودام شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ عراق میں حزب اللہ بریگیڈز پر کیے جانے والے فضائی حملے ایک بھرپور جواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکا ،،، عراق میں امریکی افواج کو درپیش ایرانی خطرات کے سامنے خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔

پومپیو کے مطابق ہم نے جو کچھ کیا اس سے صدر ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ سے کہی جانے والی بات واضح ہو گئی ،،، اور وہ یہ کہ ہم ہم ہاتھ باندھے ہر گز نہیں بیٹھیں گے جب کہ ایران کے افعال ہمارے فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہوں۔

امریکی افواج نے اتوار کے روز عراقی حزب اللہ کے اڈوں پر سلسلہ وار فضائی حملے کیے۔ ان کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ یہ کارروائی عراق میں اتحادی افواج کے اڈوں پر ہونے والے اس میزائل حملے کے دو روز بعد سامنے آئی جس میں ایک امریکی ٹھیکے دار ہلاک اور ایک فوجی زخمی ہوگیا تھا۔

عراق میں "العربيہ" کے نمائندے کے مطابق عراقی حزب اللہ کے اڈوں پر امریکی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے جن میں 3 ایرانی افسران بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ امریکی بم باری میں عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے 50 کے قریب ارکان زخمی بھی ہوئے۔

امریکی وزارت دفاع "پینٹاگان" کے مطابق امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان میں جنگجو کا ایک اہم لیڈر ابو علی الخزعلی شامل ہے۔

امریکی پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے عراقی حزب اللہ تنظیم کے 5 مقامات کو حملوں کو نشانہ بنایا۔ ان میں عراقی صوبے انبار میں 3 اور شام میں 2 مقامات شامل ہیں۔

پینٹاگان کے مطابق یہ فضائی حملے عراق میں ایک امریکی دفاعی ٹھیکے دار کی ہلاکت کے بعد کیے گئے۔