.

یوکرائن کے طیارے کے ملبے میں یہ باقیات میزائل کی ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی کارکنان کی جانب سے ٹویٹر پر ایک میزائل کے ملبے کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔ ان تصاویر کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ بدھ کے روز ایران میں یوکرائن کے مسافر طیارے کے گرنے کے مقام کے نزدیک لی گئیں۔ طیارہ اڑان بھرنے کے چند منٹوں بعد ہی حادثے کا شکار ہو گیا اور اس میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں جہاز کے ملبے کے اندر ایک پراسرار ٹکڑا دکھائی دے رہا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ "میزائل" کی بقیہ حصہ ہے۔

یوکرائن کا 737 بوئنگ طیارہ دارالحکومت تہران کے اطراف واقع شہر پاراند کے باہر زرعی اراضی میں گر کر تباہ ہوا۔ طیارہ بدھ کی صبح خمینی انٹرنیشنل ایئرپوٹ سے روانہ ہو کر یوکرائن کے دارالحکومت کیو جا رہا تھا۔

ایران کا دعوی ہے کہ طیارے کے تباہ ہونے کا ممکنہ سبب "تکنیکی مسائل" ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ انجن میں آگ لگ جانے کے بعد کپتان کا طیارے پر سے کنٹرول ختم ہو گیا۔

ٹویٹر پر ایرانی اکاؤنٹس پر وائرل ہونے والی تصاویر میں ایک سبز رنگ کا وجود نظر آ رہا ہے جو کہ لگتا ہے کہ سیاہ رنگ کا ایک مخروطی میزائل ہے۔ ان تصاویر نے طیارے کے گرنے کے سبب کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

ڈیلی میل اخبار کے مطابق مذکورہ تصاویر کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

عینی شاہدین نے ٹویٹر پر یہ بھی بتایا کہ انہوں جائے حادثہ کے نزدیک واقع ایرانی فوج کے ایک اڈے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنیں جس کے بعد انہیں طیارے کے گرنے کے بارے میں پتہ چلا۔ جائے حادثہ سے ایرانی فوج کے مذکورہ اڈے کا فاصلہ دو میل سے بھی کم ہے۔

یوکرائن کی فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ 4 برس کے قریب پرانا تھا اور دو روز قبل ہی اس کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں طیارے کو فضائی کمپنی کے عملے کی ایک بہترین ٹیم چلا رہی تھی۔

مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے اولین تجزیے کے مطابق یوکرائن کے کے طیارے کو کسی میزائل کے ذریعے نہیں گرایا گیا۔

کینیڈا کے ایک سیکورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا کہ مذکورہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ بوئنگ 737 طیارہ فنی خرابی کا شکار ہوا۔

طیارے میں برطانیہ کے 3 اور کینیڈا کے 63 شہریوں سمیت 168 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔ یوکرائن کے طیارے نے بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 6:10 پر تہران سے اڑان بھری اور چند منٹوں بعد ریڈار کی اسکرینوں سے غائب ہو گیا۔

یہ طیارہ عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر ایران کی جانب سے میزائلوں کی بارش کے چند گھنٹوں بعد حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے کے الم ناک حادثے کے وقت نے ہوابازی کے بعض ماہرین کے ذہنوں میں اس سوال کو جنم دیا کہ آیا یوکرائن کے طیارے کو کسی میزائل کے ذریعے مار گرایا گیا۔ تاہم ایرانی ذمے داران نے اس نوعیت کے کسی بھی گمان کی مخالفت کی اور حادثے کے سبب کے طور پر ساری ملامت میکانیکی خرابی پر ڈال دی۔

دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں نے مشرق وسطی کا علاقہ عبور کرنے والی پروازوں کے لیے اپنے روٹس تبدیل کر لیے۔ اس اقدام کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ خطرات سے اجتناب کرنا ہے۔ امریکا میں Federal Aviation Administration نے بھول چُوک کے امکان سے خبردار کرتے ہوئے خلیج عربی کی فضائی حدود میں امریکی فضائی پروازوں کو گزرنے سے روک دیا ہے۔