.

کربلاء میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ، بغداد میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان بدھ کی شام کو الوثبہ اور الخلانی اسکوائر میں جھڑپیں ہوئیں جن میں متعدد مظاہرن زخمی ہوگئے۔ تاہم وسطی بغداد میں تحریر اسکوائر میں نسبتا خاموشی رہی، البتہ وہاں لوگوں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کے جنوبی شہر کربلاء میں سیکیورٹی نے مظاہرین کو منتش کرنے کے لیے ان پر براہ راست فائرنگ کی۔

ادھر جنوبی گورنری واسط میں بھی گورنر اور پولیس چیف کی برطرفی کے لیے مظاہرے کیے گئے۔

الناصریہ اور ذی قار گورنری کے مرکز میں بند سڑکیں اور پل کھولنے کا اعلان کیا گیا جب کہ واسط میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف بڑی بڑی ریلیاں نکالیں اور حکومتی عہدیداروں کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔

البصرہ میں بھی القرنہ کے مقام پر مظاہرین نے حکومتی عہدیداروں کی برطرفی کے لیے احتجاج کیا۔

بابل میں اسکوائر کھولے جانے کے بعد بھی شہر میں لوگوں ک احتجاج جاری ہے۔

ادھر صدر برھم صالح نے بدھ کے روز سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھرپیغام بھیجا ہے کہ وہ ہفتے کے روز تک کسی غیر جانب دار شخصیت کے نام پر وزارت عظمیٰ کے لیے اتفاق کریں۔

صدر برھم صالح نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ موجودہ عبوری وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی طرف سے دو ماہ قبل استعفے کا اعلان کرنے کے بعد اب تک سیاسی جماعتیں عوام کی مرضی کا کوئی امیدوار سامنے نہیں لا سکی ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں میں پائے جانے والے اختلافات باعث تشویش ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں حکومت کی برطرفی کے لیے یکم اکتوبر 2019ء سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پرتشدداحتجاجی تحریک اب تک کئی انسانی جانیں لے چکی ہے جب کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوچکے ہیں مگر اس کے باوجود حکومت عوام کی مرضی کا وزارت عظمی کا امیدوار سامنے لانے میں بری طرح ناکام ہے۔