شہزادہ ولید فائونڈیشن یمن میں تعمیر نو میں سعودی حکومت کا دست وبازو بن گئی

یمن میں تعمیر نو کمیٹی اور شہزادہ ولید فائونڈیشن میں باہمی تعاون کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں امن ومان کے قیام اور آئینی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سعودی شاہی خاندان بھی اس جنگ کے اثرات کم کرنے میں پوری طرح مدد کررہا ہے۔ اس کی تازہ مثال یمن کی تعمیر نوکمیٹی اور سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے ولید بن طلال کی پیش کے الولید چیئرٹی فائونڈیشن کےدرمیان باہمی تعاون کا معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ گذشتہ روز طے پایا جس کا مقصد یمن میں جنگ زدہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں یمن کی آئینی حکومت کی مدد کرنا ہے۔

سعودی عرب میں یمن میں تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں کے حوالے سے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں یمن کے وزیراعظم ڈاکٹر معین عبدالملک نے شرکت کی۔ اس موقعے پر سعودی عرب کی یمن میں تعمیر نو کے لیے قائم کردہ کمیٹی اور شہزادہ ولید بن طلال فائونڈیشن کےدرمیان بھی باہمی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ دستخطی تقریب میں یمن میں تعمیر پروگرام کے جنرل سپر وائزر اور سعودی عرب کے سفیر محمد بن سعید آل جابر جبکہ فائونڈیشن کی طرف سے اس پر شہزادی لمیاء بنت ماجد نے دستخط کیے۔ تقریب شہزادہ ولید بن طلال خود بھی موجود تھے۔

دستخط کے بعد الولید چیئرٹی فائونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو شہزادہ ولید بن طلال بن عبدالعزیز اور سعودی عرب کے یمن میں سفیر آل جابر کے درمیان یمن میں امدادی آپریشنز سے متعلق تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اس موقعے پر شہزادہ ولید بن طلال نے یمن میں سعودی سفیر کو یقین دلایا کہ ان کی تنظیم یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی بحالی میں ہرممکن مدد فراہم کرے گی۔

ولید فائونڈیشن کے نمائندہ شہزدای لمیاء بنت ماجد نے کہا کہ یہ معاہدہ ان کی تنظیم کا اہم ترین معاہدہ سمجھا جائے گا۔ ان کاکہنا تھا کہ وہ یمن میں امدادی آپریشن کا آغاز عدن سے کریں گے اس کے بعد اس کا دائرہ دوسرے یمنی علاقوں تک پھیلایا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے یمن میں سفیر آل جابر نے کہا کہ یمن میں بحالی اور تعمیر نو پروگرام شہزادہ ولید بن طلال فائونڈیشن اور اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ یمنی بھائیوں کی بحالی، آباد کاری، تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات ، خواتین کوبا اختیار بنانے، نوجوانوں کی پیشہ وارانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں امدادی کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ یمن میں بحالی پروگرام میں یمن کے 6 ہزار مردو خواتین کو مختلف شعبوں میں ملازمت اور کاروبار کے قابل بنانا بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں